*مولانا الیاس قادری کی سب سے نمایاں خوبی*

تحریر:- *خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: *تحریک علمائے ہند*، جے پور

خود ساختہ دانش وروں کے درمیان ان دنوں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے: *کیا تبلیغی جماعت سے بڑی بھی کوئی اسلامی تنظیم پوری دنیا میں متعارف ہے؟*
دوٹوک لہجے میں اس کے جواب کے طور پر عرض ہے اگر ذہن میں تعصب کا غبار نہیں تو کمیت کے اعتبار سے نہ، تو نہ سہی، لیکن کیفیت کے اعتبار سے بے شک *تبلیغی جماعت* سے کام یاب تنظیم *دعوت اسلامی* ہے، جس کے ہاں ایک حد تک توسع بھی ہے، کافی جدت بھی اور اور امت کے روشن مستقبل کے لیے ایک ویژن بھی۔
دعوت اسلامی اپنے نظام کے مطابق اس وقت دنیا کے 200 سے زیادہ ملکوں میں دینی طور پر متحرک ہے اور اس کے دائرہ کار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے ہاں کارہائے دعوت کے لیے 104 شعبے مقرر ہیں، جن میں ہر کام کے لائق عملہ اپنی ذمہ داریاں پورا کرتا ہے۔
دعوت اسلامی نے وقت کے تقاضوں پر لبیک کہتے ہوئے نشریاتی اداروں میں اسلامی نمائندگی کے لیے *مدنی چینل* نامی اپنا ٹیلی ویژن لانچ کر رکھا ہے، جس کے اصلاحی اور دعوتی کارناموں کی ایک داستان ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ محض تین دہائیوں پہلے دعوتی نہج سے اپنے کاموں کا آغاز کرنے والی یہ تنظیم اپنی بساط کے مطابق پاکستان میں ایک یونیورسٹی کا روڑ میپ بھی تیار کر چکی ہے، جس کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں۔ یہ تنظیم بڑی تعداد میں مدرسے چلاتی ہے، جن میں کچھ رہائشی مدرسے ہیں، کچھ بالغان کے لیے ہیں اور کچھ بچوں کے لیے۔ مدرسوں کے ساتھ ساتھ حالیہ سالوں اس تحریک نے اسکولوں کی بھی ٹھیک چین قائم کی ہے۔ اسلامی کتابوں کی اشاعت میں بھی دعوت اسلامی کا نا قابل فراموش کردار ہے، اب تک اس کے *المکتبۃالعلمیہ* سے کئی سو کتابیں جدید اشاعتی تقاضوں کے مطابق چھاپی جا چکی ہیں۔ دعوت اسلامی کے *دار الافتا اہل سنت* کا نظم و نسق بہت محکم، معیاری اور بہت سے جدید دار الافتاؤں کے لیے قابل تقلید ہے۔
دنیا کے طول و عرض میں روزانہ اوسطاً دو مسجدیں بنوانا، قیدیوں کے لیے جیلوں میں کام کرنا اور فطری طور پر مفلوج انسانوں کے درمیان دعوتی کام کرنے کے لیے سیٹ اپ قائم کرنا جیسے کوئی سیکڑوں شعبہ جات ہیں، جن میں یہ تنظیم متحرک اور فعال دعوتی کردار ادا کر رہی ہے۔
دور نہ جا کر اگر موجودہ وبا *کورونا وائرس* کے تعلق سے دعوت اسلامی کی خدمات کا تجزیہ کیا جائے تو بھی از خود ایک واضح موازنہ ہو جاتا ہے اور بہت حد تک تصویر صاف ہو جاتی ہے۔
عالمی تحریک *دعوت اسلامی* نے *کورونا وائرس* کی وبا سے جھوجھ رہی دنیا کے لیے ریاستوں کی طرح امداد تقسیم کی ہے۔ تحریک کی طرف سے تقسیم کی گئی مدد کو مذہبی تنظیموں کی طرف سے دیے گئے تعاون میں سب سے بڑا تعاون مانا گیا ہے، جس کے لیے تحریک کے بانی *مولانا محمد الیاس عطار قادری* پوری امت مسلمہ کی طرف سے بجا طور پر شکریہ کے مستحق ہیں کیوں کہ انھوں نے ایک بہت بڑا فرض اور قرض ادا کیا ہے۔
یہ کام اس وقت ہوا ہے جب *تبلیغی جماعت* نے شعوری، یا غیر شعوری طور پر اسلامیان ہند کو ایک بڑی آزمائش میں مبتلا کیا ہے اور اس پر الزام ہے کہ بھارت بھر میں 30 فیصد تک *کورونا* پھیلانے میں *تبلیغی جماعت* کا کردار ہے۔ باہمی متصادم نظریات کی حامل دو مذہبی تنظیموں اور ان کے رہ نماؤں کے یہ دو کردار در اصل محض دو قدرتی حادثے ہی نہیں، اچھی بری اٹھان اور اچھی بری نمود کی بھی دلیل ہیں۔
سردست ہمیں تبلیغی جماعت کے منفی پہلوؤں سے کوئی بہت زیادہ سروکار نہیں، *دعوت اسلامی* کے اس اہم کردار کے تعلق سے یہ عرض ہے کہ دعوت اسلامی کی طرف سے یہ ملت کی پہلی نمائندگی نہیں بلکہ ازیں قبل بھی کئی مرتبہ یہ تحریک ایسے مبارک اقدامات کر چکی ہے اور دعوت و تبلیغ کا حقیقی مطلب سمجھا چکی ہے۔ حقیقی مطلب سے مراد یہ ہے کہ *تبلیغی جماعت* کے یہاں دعوت کا مطلب صرف نماز کی پابندی ہے، بھلے خیر سے کسی کے اندر انسانیت ہی نہ ہو، جیسے کہ اس وقت اس کے *کورونا* مریضوں کا رویہ نوٹ کیا جا رہا ہے اور ہر صبح کے اخبار میں مسلمانوں اور اسلامی چہروں کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے، جبکہ دعوت اسلامی نے نماز کی دعوت کے ساتھ دعوت دین کے لازمی تقاضوں کی تکمیل کی ہے۔
دعوت اسلامی کے بانی مولانا محمد الیاس عطار قادری ایک سادہ مزاج اور پارسا انسان ہیں اور پچھلی ایک مدت سے گوشہ عبادت میں سر مست رہتے ہیں۔ مولانا عطار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مست مولا اور بے نیاز انسان ہیں، انھوں نے اپنی تحریک کو دنیا کی عظیم ترین اور کام یاب ترین تنظیموں کی صف میں کھڑا کرنے کے بعد اپنا ہر کام تقسیم کر دیا اور دعائیں کرنے کے علاوہ اپنے پلے کچھ نہ رکھا۔
مولانا موصوف کی تنظیمی کام یابی کا بنیادی راز وہ نکتہ ہے جو انھوں نے حضرت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے حاصل کیا ہوگا یعنی مولانا موصوف نے *تقسیم کار* کے اصولوں پر کام کیا اور اپنے ماتحتوں پر اعتماد کرتے ہوئے، ہر کام بانٹ دیا۔
اس تقسیم کار اور اعتماد کے سلسلے میں مولانا اس قدر کشادہ ظرف واقع ہوئے ہیں کہ انھوں نے ذاتی طور پر آفیشیلی اپنے پاس اپنی دعوت اسلامی کا کوئی منصب نہیں رکھا اور اسی بے پایاں اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج وہ بے تاج بادشاہ اور دنیا بھر میں مقبول ترین مذہبی شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔
اخلاص، لیاقت شناسی، تقسیم کار، اعتماد اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی مولانا عطار قادری صاحب کی وہ تنظیمی خوبیاں ہیں، جو کسی بھی تنظیم اور تنظیمی شخصیت کی کام یابی کا راز ہوتی ہیں، تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتے ہوئے اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے افسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک صدی میں کوئی سینکڑوں تنظیمیں ہوں گی جو زندہ درگور ہو گئیں اور اللہ کرے تاریخی تجربہ غلط ہو جائے ورنہ اب بھی محسوس طور پر ہماری نگاہوں کے سامنے بہت ساری آج زندہ تنظیموں کے کل لاشے تیار ہیں کیوں کہ ان سربراہوں کے اندر وہ تحریکی لیاقت نہیں، جو مولانا الیاس قادری کو من جانب اللہ ودیعت ہوئی ہے۔ کاش! وہ نوشتہ دیوار پڑھ سکیں اور مولانا موصوف کی کم سے کم اس حد تک تقلید کر سکیں۔

2 responses on “*مولانا الیاس قادری کی سب سے نمایاں خوبی*

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *