ہیکل سلیمانی پارٹ 2

کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسبِ معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ کے مصلوب ہونے کے ۷٠ سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔
یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ہیروڈس کے بنائے ہوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ہمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باہر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ہو کر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچے اسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ہونے رہنے کی اجازت مل گئی۔
لیکن یہ قوم اپنی ہزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دیئے ہوئے اسرائیل تک محدود نہ رہے۔ ایک بار پھر ہمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ہو کر مصیبت بننے لگے۔

۵ جون ١٩٦۷ء کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ ١٩٦٨ء میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ہو گئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ہزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی ناسمجھی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد از جلد اسی ہیکل کی تعمیر ہے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے۔ تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیز رفتاری سے کر رہے ہیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔

اللہ ہم مسلمانوں میں اتحاد قائم کرے اور ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔“
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سرزمین کو فتح کیا تو رومیوں کے کلیسا سے کچھ فاصلے پر دعا فرمائی، جہاں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی گئی۔

یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ جس جگہ مسجد اقصیٰ واقع ہے وہاں ان کا معبد تھا۔ مسلمان اس جگہ کو اپنے لئے مقدس جانتے ہیں، مگر یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ وہ ہیکل کی ایک پس ماندہ دیوار میں واقع دروازے کے متعلق بھی سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت سے قبل ان کے بادشاہ کی واپسی کا راستہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب اس دروازے سے ان کا بادشاہ نکلے گا تو اس کے پیچھے تمام مردے اٹھ کھڑے ہوں گے، البتہ مسلم روایات کے مطابق یہودیوں کا بادشاہ دجال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *