ہیکل سلیمانی پارٹ1



ہیکلِ سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی  جوحضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کر کے یا اس کے اندر عبادت کریں ۔
ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ہاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ہوتا تھا۔ جس کی جانب یہ رخ کر کے عبادت کیا کرتے تھے ۔
روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے “شمشاد” کہتے ہیں۔ جسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا ۔
یہ تابوت نسل در نسل انبیاء سے ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، من و سلویٰ، اور دیگر انبیاء کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے لر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے۔ مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے، اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔
جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ہوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔

ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ہوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ہوتا ہے۔
یہ بائیبل کی روایات ہے۔
جیسے بائیبل میں ہے؛
” بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے۔ ( 2۔سموئیل 4؛2)

چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماہرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے۔ آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجیئے۔
چنانچہ حضرت سلیمانؑ نے (٩۷٠ ق م تا ٩٣٠ ق م ) اپنے دورِ حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا، جن پر حضرت سلیمانؑ کی حکومت تھی ۔

ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمانؑ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کر دی۔
یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہو گا کہ حضرت سلیمانؑ کی روح اللہ نے دورانِ عبادت ہی قبض کر لی، لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہو گئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کر رہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہو چکا تھا۔
بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی ۔
حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کر دیئے گئے تھے ۔
بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے۔ اس سے اگلے حصے میں علماء جو کہ انبیاء کی اولاد میں سے ہوتے، ان کی عبادت کی جگہ تھی۔ اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا، اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی، سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے ۔
وقت گزرتا رہا، اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ہوتے رہے۔ یہ قوم بد سے بدتر ہوتی رہی۔ یہ کسی بھی طرح اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔
ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ہو گیا۔ ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیاء بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی۔ حتیٰ کہ ان کی شکلیں تبدیل کر کے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں۔ لیکن یہ گناہوں سے باز نہ آئے۔ تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی ۔

۵٨٦ ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا، ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا۔ ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا۔ تقریباً دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا اور شہر سے باہر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی، جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔
۷٠ سال تک ہیکل صفحۂِ ہستی سے مٹا رہا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوتِ سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا۔

کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن ۵٣٩ ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔
سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا۔ اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کر کے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی۔ ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔ چنانچہ ہیکل کی (دوسری) تعمیر ۵٣۷ ق م میں شروع ہوئی۔ لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیا اور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت ذکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زرو بابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔
انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیا اور پوری قوم کی پر جوش تائید اور ایرانی حکام اور بذات خود بادشاہ کی آشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں ۵٢٠ تا ۵١۵ ق م پایۂِ تکمیل کو پہنچا۔ لیکن اس بار اس میں تابوتِ سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توہین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا۔ جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔ لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرۂِ ارض کو کھود ڈالنا چاہتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ بات، عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباہی کا ذکر کرتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ ایسا نہیں، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا، لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔
ہیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ہوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ہو گا۔
ہیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاہتا ہے، اسے گرانا نہیں چاہتا۔
چنانچہ ١٩ ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کر کے تعمیر کروایا۔ یہ طریقہ کامیاب رہا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کر کے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رہا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ہوا اور یوں تیسری بار ہیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *