تربیت اولاد کا ایک طریقہ یہ بھی ہے

*تربیتِ اولاد کا ایک طریقہ یہ بھی ہے*

👈جب بچے کے بال میں کنگھی کرو تو اسے بتاؤ کہ بالوں ميں کنگھی کرنا پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے : *( مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ )*
*ترجمہ: جس کے پاس بال ہوں تو اسے سنوارنا چاہیے.* (رواه أبو داود (3632) وصححه الشيخ الألباني)

👈جب اپنے بچے کو خوشبو لگاؤ تو اسے بتاؤ کہ خوشبو لگانا پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے. *ارشاد نبوی ہے: (حبِّب إليَّ من دنياكم النساء والطيب ، وجعلت قرة عيني في الصلاة)*
*ترجمہ: مجھے تمہاری دنیا کی خوشبو اور عورت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے.* (رواه النسائي ( 3939 ) وصححه الحاكم ( 2 / 174 ) ووافقه الذهبي ، وصححه الحافظ ابن حجر في ” فتح الباري ” ( 3 /15 ) و ( 11 / 345 ).

👈جب بچے کو مدرسہ بھیجو تو اسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سناؤ : *من سلك طريقاً يطلب فيه علماً سهل الله له طريقاً إلى الجنة.*
*ترجمہ : جو علم سیکھنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے.* ( رواه البخاري / كتاب العلم/10 )

👈جب بچے کے سامنے مسکراؤ تو اسے بتاؤ کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرانے کو صدقہ (نیکی) قرار دیا ہے : *( تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ )*
*ترجمہ : اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے.* (ترمذى (1956) وصححه الألباني)

👈جب بچے کی تعریف کرو تو اسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سناؤ : *( الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ )*
*ترجمہ : اچھی بات بهی صدقہ (نیکی) ہے.* (البخاري ( 2734 )

👈جب تم اپنا کھانا بچے کے پلیٹ ميں ڈالو تو اسے بتاؤ کہ یہ بھی نیکی کا کام ہے ارشاد نبوی ہے : *( … وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ. )*
*ترجمہ : اپنے برتن سے کوئی چیز لے کر اپنے بھائی کے برتن ميں ڈالنا صدقہ اور نیکی ہے.* (ترمذى (1956) وصححه الألباني)

👈جب تم کہیں ایسی محفل میں ہو جہاں بڑے بزرگ لوگ ہوں تو اپنے بچے کو ان کی خدمت کے لئے کہو اور اسے بتاؤ کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا یہ ایک طریقہ ہے کیونکہ ارشاد نبوی ہے : *( لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا )*
*ترجمہ : جو چھوٹے پر رحم اور بڑے کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں.* ( رواه الترمذى (1919) وصححه الألباني)

*👈الغرض اس طرح اپنے بچوں کی تمام حرکات و سکنات کو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور سیرت طیبہ سے جوڑنے کا اہتمام کرنا چاہیے اور انهیں پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری حدیثیں سکھانی چاہیے.*

اللہ تعالى ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے.
•┈┈┈┈•✿☆❁☆✿•┈┈┈┈•

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *