بیس رکعتیں تراویح کی شرعی حیثیت

ایک انتہائی اہم مسئلہ جس کو علماء کی رہنمائی کے بعد القرآن المجید کی ٹیم شائع کرنے جا رہی ہے انشااللہ آپ کے بہت سے مسائل تراویح کے بارے میں حل ہو جائیں گئے۔اس آرٹیکل کا مکمل مطالعہ بھی کریں اور شیر ضرور کریں۔

وَأَمَّا قَدْرُهَا فَعِشْرُونَ رَكْعَةً فِي عَشْرِ تَسْلِيمَاتٍ، فِي خَمْسِ تَرْوِيحَاتٍ كُلُّ تَسْلِيمَتَيْنِ تَرْوِيحَةٌ وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِوَقَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلٍ: سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ رَكْعَةً، وَفِي قَوْلٍ سِتَّةٌ وَعِشْرُونَ رَكْعَةً، وَالصَّحِيحُ قَوْلُ الْعَامَّةِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَصَلَّى بِهِمْ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَلَمْ يُنْكِرْ أَحَدٌ عَلَيْهِ فَيَكُونُ إجْمَاعًا مِنْهُمْ عَلَى ذَلِكَ.(بدائع الصنائع)

تراویح مرد و عورت سب کے ليے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔ ”الدرالمختار”، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۹۶، وغیرہ .اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے مداومت فرمائی اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کہ ”میری سنت اور سنت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازم سمجھو۔” ”جامع الترمذي”، أبواب العلم، باب ماجاء في الأخذ بالسنۃ… إلخ، الحدیث: ۲۶۸۵، ج۴، ص۳۰۸.
اور خود حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بھی تراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا۔
صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، ارشاد فرماتے ہیں: ”جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ سے اور ثواب طلب کرنے کے ليے، اس کے اگلے سب گناہ بخش ديے جائیں گے ( ”صحيح مسلم”، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الترغيب في قیام رمضان وہو التراويح، الحدیث: ۷۵۹، ص۳۸۲. ) یعنی صغائر۔” پھر اس اندیشہ سے کہ امت پر فرض نہ ہو جائے ترک فرمائی پھر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان میں ایک رات مسجد کو تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہا ہے، کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں، فرمایا: میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہو، سب کو ایک امام ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اکٹھا کر دیا پھر دوسرے دن تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں فرمایا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ یہ اچھی بدعت ہے۔ (‘صحيح البخاري”، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث : ۲۰۱۰، ج۱، ص۶۵۸.
و ”الموطأ” لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قيام رمضان، رقم ۲۵۵، ج۱، ص۱۲۰. ) رواہ اصحاب السنن۔
جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں ( ”الدرالمختار” و ”ردالمحتار”، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۹. ) اور یہی احادیث سے ثابت، بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ( ”معرفۃ السنن و الآثار” للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب قيام رمضان، رقم ۱۳۶۵، ج۲، ص۳۰۵. ) اور عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں بھی یوہیں تھا۔ ( ”فتح باب العنایۃ شرح النقایۃ”، کتاب الصلاۃ، فصل في صلاۃ التراويح، ج۱، ص۳۴۲. ) اور موطا ميں یزید بن رومان سے روایت ہے، کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان ميں تیئس ۲۳ رکعتیں پڑھتے۔ (”الموطأ” لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قيام رمضان، رقم ۲۵۷، ج۱، ص۱۲۰. ) بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں۔ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا: کہ رمضان میں لوگوں کو بیس ۲۰ رکعتیں پڑھائے۔ ( ”السنن الکبری”، کتاب الصلاۃ، باب ما روی في عدد رکعات القيام في شھر رمضان، الحدیث: ۴۶۲۱، ج۲، ص۶۹۹. ) نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس ۲۰ رکعتیں ہیں، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں۔
1……….اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں (نفل) نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلی رات نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہوگئے پھر تیسری یا چوتھی رات بھی اکٹھے ہوئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا : میں نے دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے تمہارے پاس (نماز پڑھانے کے لئے) آنے سے صرف اس اندیشہ نے روکا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے گی اور یہ رمضان المبارک کا واقعہ ہے۔‘‘
🙁 أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التهجد، باب : تحريض النبي صلي الله عليه وآله وسلم علي صلاة الليل والنوافل من غير إيجاب،)
2…..’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے تو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ) رمضان المبارک میں لوگ مسجد کے ایک گوشہ میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کون ہیں؟ عرض کیا گیا : یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن پاک یاد نہیں اور حضرت ابی بن کعب نماز پڑھتے ہیں اور یہ لوگ ان کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے درست کیا اور کتنا ہی اچھا عمل ہے جو انہوں نے کیا۔‘‘
أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : في قيام شهر رمضان،

3…..’’حضرت عبدالرحمن بن عبد القاری روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا تو لوگ متفرق تھے کوئی تنہا نماز پڑھ رہا تھا اور کسی کی اقتداء میں ایک گروہ نماز پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خیال میں انہیں ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو اچھا ہو گا پس انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے سب کو جمع کر دیا، پھر میں ایک اور رات ان کے ساتھ نکلا اور لوگ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا : یہ کتنی اچھی بدعت ہے، اور جو لوگ اس نماز (تراویح) سے سو رہے ہیں وہ نماز ادا کرنے والوں سے زیادہ بہتر ہیں اور اس سے ان کی مراد وہ لوگ تھے (جو رات کو جلدی سو کر) رات کے پچھلے پہر میں نماز ادا کرتے تھے اور تراویح ادا کرنے والے لوگ رات کے پہلے پہر میں نماز ادا کرتے تھے۔‘‘
أخرجه البخاري في صحيح، کتاب : صلاة التراويح، باب : فضل من قام رمضان،
4……’’حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر فرمایا تو سب مہینوں پر اسے فضیلت دی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کرتا ہے تو وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘
’’اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں اور میں نے تمہارے لئے اس کے قیام (نمازِ تراویح) کو سنت قرار دیا ہے لہٰذا جو شخص ایمان اور حصول ثواب کی نیت کے ساتھ ماہ رمضان کے دنوں میں روزے رکھتا ہے اور راتوں میں قیام کرتا ہے وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘
أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکر اختلاف يحيي بن أبي کثير والنضر بن شيبان فيه، ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في قيام شهر رمضان،
5…..’’حضرت یزید بن رومان نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ (بشمول وتر) 23 رکعت پڑھتے تھے۔
أخرجه مالک في الموطأ، کتاب : الصلاة في رمضان، باب : الترغيب في الصلاة في رمضان،
6….’’امام ابو عیسیٰ ترمذی رضی اللہ عنہ نے اپنی سنن میں فرمایا : اکثر اہلِ علم کا مذہب بیس رکعت تراویح ہے جو کہ حضرت علی، حضرت عمر رضی اﷲ عنہما اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر اصحاب سے مروی ہے اور یہی (کبار تابعین) سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک اور امام شافعی رحمہ اﷲ علیہم کا قول ہے اور امام شافعی نے فرمایا : میں نے اپنے شہر مکہ میں (اہلِ علم کو) بیس رکعت تراویح پڑھتے پایا۔‘‘
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصوم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في قيام شهر رمضان، 3 / 169، الرقم : 806.
7…..’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضي اﷲ عنہما سے مروی ہے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔‘‘
أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 164، الرقم : 7692، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 243، الرقم : 798، 5 / 324،
8….’’حضرت سائب بن یزید نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فجر کے قریب تراویح سے فارغ ہوتے تھے اور ہم (بشمول وتر) تئیس رکعات پڑھتے تھے۔‘‘
أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 4 / 261، الرقم : 7733،
9….’’حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ماہ رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور ان میں سو آیات والی سورتیں پڑہتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں شدتِ قیام کی وجہ سے وہ اپنی لاٹھیوں سے ٹیک لگاتے تھے۔‘‘
أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 2 / 496، الرقم : 4393
9…..’’ابو خصیب نے بیان کیا کہ ہمیں حضرت سوید بن غفلہ ماہ رمضان میں نماز تراویح پانچ ترویحوں (یعنی بیس رکعت میں) پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 2 / 446،
10….’’حضرت شُتیر بن شکل سے روایت ہے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 163، الرقم : 7680
11…..’’حضرت ابو عبدالرحمن سلمی سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 2 / 496، الرقم

12…’’حضرت حسن (بصری) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی ابن بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں قیام رمضان کے لئے اکٹھا کیا تو وہ انہیں بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔‘‘
العسقلاني في تلخيص الحبير، 2 / 21، الرقم : 540 أخرجه الذهبي في سير أعلام النبلاء، 1 / 400،
….ابن تیمیۃ نے ’’اپنے فتاوی‘‘ (مجموعہ فتاویٰ) میں کہا کہ ثابت ہوا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے تو اکثر اہلِ علم نے اسے سنت مانا ہے۔ اس لئے کہ وہ مہاجرین اور انصار (تمام) صحابہ کرام کے درمیان (ان کی موجودگی میں) قیام کرتے (بیس رکعت پڑھاتے) اور ان صحابہ میں سے کبھی بھی کسی نے انہیں نہیں روکا۔
أخرجه ابن تيمية في مجموع فتاوي، 1 / 191،
…..’’مجموعہ الفتاوی النجدیہ میں ہے کہ شیخ عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب نے تعداد رکعات تراویح سے متعلق سوال کے جواب میں بیان کیا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز تراویح کے لئے جمع کیا تو وہ انہیں بیس رکعت پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه إسماعيل بن محمد الأنصاري في تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين رکعة، 1 / 35.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *