قسط نمبر 2 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

( سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. )
قسط 2..

پچھلی قسط میں خانوادہ ابراھیم علیہ السلام کی ھجرت اور پھر ننھے اسمائیل علیہ السلام کے مبارک قدموں کے نیچے سے زم زم کے چشمے کے پھوٹ پڑنے کا ذکر کیا گیا.. یہ چشمہ دراصل مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں زندگی کی نوید تھا.. پہلے قبیلہ جرھم جو پانی کی تلاش میں عرب کے صحراؤں میں پھر رھا تھا زم زم کے چشمہ کے پاس قیام پذیر ھوا اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک اور قبیلہ بنی قطورا بھی حضرت ھاجرہ کی اجازت سے وھاں آباد ھوگیا..
اور یوں مکہ جس کا قدیم اور اصل نام بکہ تھا (سورہ آل عمران).. ایک باقائدہ آبادی کا روپ اختیار کرگیا..
اگلے 15 ‘ 20 سال میں چند اھم واقعات ظہور پذیر ھوۓ.. ان میں سے ایک تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کا وہ خواب ھے جس میں انہیں حضرت اسمائیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ھوا.. یقیننا” یہ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسمائیل علیہ السلام کی ایک عظیم آزمائش تھی..
حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ کا حکم پاکر مکہ تشریف لاۓ اور اپنے بیٹے حضرت اسمائیل علیہ السلام سے اپنے خواب کا ذکر کیا.. سعادت مند اور فرماں بردار بیٹے نے جو اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھے یہ کہہ کر اپنی رضامندی ظاھر کردی کہ اگر یہ اللہ کا حکم ھے تو پھر مجھے قبول ھے آپ حکم ربی کو پورا کریں.. اور پھر عین اس وقت جب کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام حضرت اسمائیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانے والے تھے , اللہ نے ان کو آزمائش میں کامیاب پاکر حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ایک مینڈھے سمیت زمین پر بھیجا اور پھر حضرت اسمائیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کی قربانی کی گئی..
اللہ کو حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسمائیل علیہ السلام کا یہ فعل اتنا پسند آیا کہ پھر تا قیامت اس قربانی کی یاد میں حج پر قربانی فرض کردی اور تب سے ھر سال یہ سنت ابراھیمی جاری ھے اور عید الاضحی’ کے دن لاکھوں مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کرکے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ھیں.. حضرت اسمائیل علیہ السلام مکہ میں ھی فوت ھوۓ اور ایک روایت کے مطابق وہ اور ان کی والدہ حضرت ھاجرہ بیت اللہ کے ساتھ حجر (حطیم) میں مدفون ھیں.. واللہ اعلم..
دوسرا اھم واقعہ خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر تھی.. خانہ کعبہ حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور یہ زمین پر اللہ کا پہلا گھر تھا مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کی عمارت بھی سطح زمین سے معدوم ھوگئی اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کے زمانہ میں اس کا کوئی نشان تک ظاھر نہ تھا.. لیکن پھر اللہ کے حکم پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خانہ کعبہ کی بنیادوں کی طرف نشاندھی کی اور آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسمائیل علیہ السلام کے ساتھ ملکر خانہ کعبہ کی پرانی بنیادوں پر تعمیر کی.. اللہ کا یہ گھر ایسا سادہ تعمیر ھوا کہ اس کی نہ چھت تھی , نہ کوئی کواڑ اور نہ ھی کوئی چوکھٹ یا دروازہ.. کعبہ کو “کعبہ” اس کی ساخت کے مکعب نما ھونے کی بنا پر کہا جاتا ھے.. عربی میں چھ یکساں پہلوؤں والی چیز معکب کہلاتی ھے.. چونکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تعمیر مکعب حالت میں تھی تو اسے کعبہ کہا جانے لگا.. یاد رھے کہ موجودہ خانہ کعبہ چار کونوں والا ھے جسے قریش مکہ نے اس وقت تعمیر کیا جب ایک سیلاب میں خانہ کعبہ کی عمارت منہدم ھوگئی تھی.. اس کا ذکر آگے آۓ گا..
تیسرا اھم واقعہ قبائل جرھم اور بنی قطورا کا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تبلیغ پر دین حنیف یعنی دین ابراھیمی قبول کرلینا تھا.. خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تولیت یعنی سارا مذھبی انتظام قبیلہ جرھم کے حوالے کردیا.. بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی سے حضرت اسمائیل علیہ السلام کی شادی ھوئی..
جب کچھ پشتوں بعد نسل اسمائیل علیہ سلام پھلی پھولی تو پھر خانہ کعبہ کا سارا انتظام خود آل اسمائیل نے سنبھال لیا.. کچھ عرصہ گزرا تو ایک اور قبیلہ “ایاد” مکہ پر حملہ آور ھوا اور شھر پر زبردستی قبضہ کرلیا.. اور اس دوران بنی اسمائیل کے بہت سے قبائل کو مکہ سے نکلنا بھی پڑا.. تاھم بعد میں یمن سے آنے والے ایک اور قبیلہ بنو خزاعہ نے مکہ کو بنی ایاد سے آزاد کرالیا..
حضرت اسمائیل علیہ السلام کی نسل سے “قصی بن کلاب” وہ نامور بزرگ گزرے ھیں (جن کی شادی بنو خزاعہ کے رئیس کی بیٹی سے ھوئی تھی) جنہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت واپس لینے کے لیے جدو جہد شروع کی اور بالآخر بنو خزاعہ کی بہت مخالفت کے باوجود اس مقصد میں کامیاب ھوۓ.. انہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت کا انتظام پھر سے ملنے پر قدیم عمارت گرا دی اور خانہ کعبہ کو نئے سرے سے تعمیر کرایا اور پہلی بار کجھور کے پتوں کی چھت بھی ڈالی..
درحقیقت قصی بن کلاب ھی وہ بزرگ تھے جنہوں نے مکہ کو ایک خانہ بدوشانہ شھر سے بدل کر ایک منظم ریاست کی شکل دی.. انہیں بجا طور پر مکہ کا مطلق العنان بادشاہ کہا جاسکتا ھے جن کا ھر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا.. تاھم انہوں نے دیگر قبائل کے سرکردہ افراد کو اپنی مشاورت میں شامل رکھا جبکہ مکہ کا انتظام و انتصرام چلانے کے لیے مختلف انتظامی امور کو چھ شعبوں میں تقسیم کیا اور اپنی اولاد میں ان عہدوں کی تقسیم کی.. یہ نظام بڑی کامیابی سے اگلے 150 سال سے زائد عرصہ تک چلا اور پھر بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب مکہ فتح ھوا تو اسے اسلامی اصولوں اور بنیادوں پر تبدیل کردیا گیا..
ایک روایت کے مطابق انہی کا لقب قریش تھا جس کی وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریش کہا جانے لگا جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قصی بن کلاب سے چھ پشت پہلے بنی اسمائیل میں “فہر بن مالک” ایک بزرگ تھے جن کا لقب قریش تھا..
خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ قصی بن کلاب اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی عزت و سیادت حاصل ھوگئی تھی اور پھر اس قریش (آل قصی بن کلاب) نے خود کو اس کے قابل ثابت بھی کیا..

قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا جملہ انتظام و انتصرام کا بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقائدہ ایک ریاست کا روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کیے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم کیا جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا اور یہی نظام بعث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بڑی کامیابی سے چلایا گیا..

اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد حضرت ھاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام) , عمارۃ البیت (حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور افاضہ (حج کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئیں جو ان کے بعد بنو ھاشم کے خاندان میں نسل در نسل چلتی رھیں..

حضرت ھاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے.. نہائت ھی جلیل القدر بزرگ تھے.. انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے جبکہ مختلف قبائل عرب سے بھی معاھدات کرلیے.. ان کی اس پالیسی کی وجہ سے قریش کے باقی قبائل میں بنو ھاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ھوگیا تھا..

ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور علم برداری کا شعبہ خاندان بنو امیہ کے حصے میں آیا.. لشکر قریش کا سپہ سالار بنو امیہ سے ھی ھوتا تھا چنانچہ “حرب” جو حضرت ھاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے تھے’ ان کو اور انکے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر کی قیادت سونپی جاتی تھی..

جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو تیم بن مرہ کو اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت , دیت و جرمانے کی وصولی اور تعین کی ذمہ داری سونپی گئی..

اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی کے حصے میں آیا.. ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ مذاکرات , معاھدات اور سفارت کاری تھا..

بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا.. ان کے حصے میں “قبہ و اعنہ” کا شعبہ آیا.. ان کا کام قومی ضروریات کے لیے مال و اسباب اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور گھوڑوں کی فراھمی تھا.. قریش کے گھڑسوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ھوتا تھا.. اپنا وقت آنے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی کمان نہائت خوش اسلوبی سے سنبھالی..

اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری مختلف قبائل قریش کے حوالے کردی گئی..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *