قسط نمبر 3 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(( سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..))

قسط 3..

حضرت ھاشم نے قیصر روم کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرلیے تھے.. چنانچہ اسی سلسلے میں شام کی طرف سفر کے دوران ان کی شادی بنو نجار کی ایک معزز خاتون سلمی’ سے ھوئی مگر بدقسمتی سے اسی سفر کے دوران حضرت ھاشم کا انتقال ھوگیا..
ان کی وفات کے بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ھوا جس کا نام ” شیبہ ” رکھا گیا مگر چونکہ شیبہ کو ان کے چچا مطلب بن عبد مناف نے پالا پوسا تو شیبہ کو عبدالمطلب (مطلب کا غلام) کہا جانے لگا اور پھر انہیں تاریخ نے ھمیشہ اسی نام سے یاد رکھا..
حضرت عبدالمطلب بے حد حسین جمیل , وجیہہ اور شاندار شخصیت کے مالک تھے.. اللہ نے انہیں بےحد عزت سے نوازا اور وہ قریش مکہ کے اھم ترین سردار بنے..
ایک مدت تک ان کی اولاد میں ایک ھی بیٹا تھا جن کا نام حارث تھا.. حضرت عبدالمطلب کو بہت خواھش تھی کہ وہ کثیر اولاد والے ھوں چنانچہ انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ ان کو دس بیٹے عطا کرے گا اور وہ سب نوجوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے..
اللہ نے ان کی دعا اور منت کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دس یا بارہ بیٹے پیدا ھوئے جن میں سے ایک جناب حضرت عبداللہ تھے..
آپ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹ بیٹے تھے اور نہ صرف اپنے والد کے بلکہ پورے خاندان کے بہت چہیتے تھے.. حضرت عبدالمطلب کو ان سے بہت محبت تھی..
دس بیٹوں کی پیدائش کے بعد جب تمام کے تمام نوجوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی منت یاد آئی.. چنانچہ وہ اپنے سب بیٹوں کو لیکر حرم کعبہ میں پہنچ گئے.. جب عربوں کے مخصوص طریقے سے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا..
حضرت عبدالمطلب یہ دیکھ کر بہت پریشان ھوۓ کیونکہ شدت محبت کی وجہ سے ان کا دل نہ چاھتا تھا کہ حضرت عبداللہ کو قربان کردیں مگر چونکہ وہ منت مان چکے تھے تو اس کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنا چاھتے تھے.. چنانچہ حضرت عبداللہ کو لیکر قربان گاہ کی طرف بڑھے..
یہ دیکھ کر خاندان بنو ھاشم کے افراد جن کو حضرت عبداللہ سے بہت لگاؤ تھا ‘ بہت پریشان ھوۓ.. وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آۓ اور انہیں اس سلسلے میں یثرب (مدینہ) کی ایک کاھنہ عورت سے مشورہ کرنے کو کہا.. چنانچہ جب اس کاھنہ عورت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اس کا حل یہ نکالا کہ حضرت عبداللہ کی جگہ خون بہا ادا کیا جاۓ.. عربوں کے دیت (خون بہا) میں دس اونٹ دیے جاتے ھیں تو حضرت عبداللہ کے ساتھ دس دس اونٹوں کی قرعہ اندازی کی جاۓ اور یہ قرعہ اندازی تب تک جاری رکھی جاۓ جب تک قربانی کا قرعہ اونٹوں کے نام نہیں نکلتا..
چنانچہ ایسے ھی کیا گیا اور بالآخر دسویں بار قرعہ حضرت عبداللہ کے بجاۓ اونٹوں پر نکلا.. اس طرح ان کی جگہ سو اونٹوں کو قربان کیا گیا..
حضرت عبداللہ کی شادی بنو زھرہ کے سردار وھب بن عبدمناف کی بیٹی جناب حضرت آمنہ سے ھوئی جن کے بطن سے تاجدار دوجہان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ ھوئی..
اس سے پہلے کہ ھم کا باقائدہ آغاز کریں ضروری ھے کہ پیج میمبرز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت قریش مکہ کے مذھبی , سیاسی , معاشرتی , معاشی اور تمدنی حالات سے روشناس کرایا جاۓ.. نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ سے صرف پچاس دن پہلے ظہور پذیر ھونے والے واقعہ “عام الفیل” سے بھی آگاہ کیا جاۓ جب حبشی نژاد “ابرھہ” خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ھوا
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ھاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا..؟
کیا اس نے ان کی تدبیر کو نامراد نہیں بنا دیا..؟
اللہ نے ان پر پرندوں (ابابیل) کے جھنڈ بھیجے جو ان پر (کھنگر مٹی کی) کنکریاں پھینکتے تھے..
اس طرح اللہ نے ان کو کھاۓ ھوۓ بھوسے کی طرح کردیا..
سورہ الفیل.. آیت 1 تا 5..
واقعہ اصحاب الفیل حضرت محمد مصطفی’ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارکہ والے سال یعنی 571 عیسوی میں پیش آیا جب یمن کا حبشی نژاد عیسائی حکمران “ابرھہ بن اشرم” 60 ھزار فوج اور 13 ھاتھی لیکر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ھوا..
ابرھہ بن اشرم آغاز میں اس عیسائی فوج کا ایک سردار تھا جو شاہ حبشہ نے یمن کے حمیری نسل کے یہودی فرماں روا “یوسف ذونواس” کے عیسائیوں پر ظلم و ستم کا بدلہ لینے کو بھیجی جس نے 525 عیسوی تک اس پورے علاقے پر حبشی حکومت کی بنیاد رکھ دی.. ابرھہ بن اشرم رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کرتے ھوۓ بالآخر یمن کا خود مختار بادشاہ بن بیٹھا لیکن کمال چالاکی سے اس نے براۓ نام شاہ حبشہ کی بالادستی بھی تسلیم کیے رکھی اور اپنے آپ کو نائب شاہ حبشہ کہلواتا رھا..
ابرھہ ایک کٹر متعصب عیسائی تھا.. اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد اس نے عربوں میں عیسائیت پھیلانے کی سوچی جبکہ اس کا دوسرا ارادہ عربوں کی تجارت پر قبضہ جمانا تھا..
اس مقصد کے اس نے یمن کے دارالحکومت “صنعاء” میں ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا جسے عرب مؤرخین “القلیس” اور یونانی “ایکلیسیا” کہتے ھیں.. اس کلیسا کی تعمیر سے اس کے دو مقاصد تھے.. ایک تو عیسائیت کی تبلیغ کرکے عربوں کے حج کا رخ کعبہ سے اپنے کلیسا کی طرف موڑنا تھا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ھوجاتا تو اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ عربوں کی ساری تجارت جو ابھی تک خانہ کعبہ کی وجہ سے عربوں کے پاس تھی , وہ یمن کے حبشی عیسائیوں کے ھاتھ آ جاتی..
ابرھہ نے پہلے شاہ جبشہ کو اپنے اس ارادے کی اطلاع دی اور پھر یمن میں علی الاعلان منادی کرادی کہ ” میں عربوں کا حج کعبہ سے اکلیسیا کی طرف موڑے بغیر نہ رھوں گا..”
اس کے اس اعلان پر غضب ناک ھو کر ایک عرب (حجازی) نے کسی نہ کسی طرح ابرھہ کے گرجا میں گھس کر رفع حاجت کرڈالی.. اپنے کلیسا کی اس توھین پر ابرھہ نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کعبہ کو گرا نہ دوں..
اس کے بعد سنہ 570 عیسوی کے آخر میں وہ 60 ھزار فوج اور 13 جسیم ھاتھی لیکر یمن سے مکہ پر حملہ آور ھونے کے ارادے سے نکلا.. راستے میں دو عرب سرداروں نے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر شکست کھائی اور ابرھہ کسی طوفان کی طرح مکہ کے مضافاتی مقام “المغمس” میں پہنچ گیا..
یہاں ابرھہ کے لشکر نے پڑاؤ ڈالا جبکہ چند دستوں نے اس کے حکم پر مکہ کے قریب میں لوٹ مار کی اور اھل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی بھی لوٹ لیے گئے جن میں مکہ کے سردار اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب بن ھاشم کے دو سو اونٹ بھی تھے.. اس کے بعد ابرھہ نے ایک ایلچی مکہ کے سردار حضرت عبدالمطلب کے پاس بھیجا اور اس کے ذریعے اھل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ھوں بلکہ اس گھر (کعبہ) کو گرانے آیا ھوں.. اگر تم نہ لڑو تو میں تمھاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا..
حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا.. “ھم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ھے.. کعبہ اللہ کا گھر ھے وہ چاھے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا..”
ایلچی نے کہا.. “آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں..” وہ اس پر راضی ھوگئے..
حضرت عبدالمطلب بہت خوبصورت اور شاندار شخصیت کے مالک تھے.. ابرھہ ان کی مردانہ وجاھت سے اتنا متاثر ھوا کہ اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا.. پھر آپ سے پوچھا.. “آپ کیا چاھتے ھیں..؟”
انہوں نے کہا.. “میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ھیں میں اپنے ان اونٹوں کی واپسی چاھتا ھوں..”
ابرھہ ان کی بات سن کر سخت متعجب ھوا اور کہا.. “آپ مجھ سے اپنے دوسو اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ تو کررھے ھیں مگر اس بیت اللہ کا ذکر نہیں کرتے جو آپ کے اور آپ کے آباؤ اجداد کے دین کی بنیاد ھے.. میں اسے گرانے آیا ھوں مگر آپ کو اس کی کوئی فکر ھی نھیں..”
یہ سن کر حضرت عبدالمطلب نے کہا.. “ان اونٹوں کا مالک میں ھوں اس لیے آپ سے ان کی واپسی کی درخواست کررھا ھوں.. رھا یہ گھر تو اس گھر کا مالک اللہ ھے وہ اس کی حفاظت خود کرے گا..”
ابرھہ نے متکبرانہ انداز میں کہا.. “کعبہ کو اب آپ کا اللہ بھی مجھ سے نہیں بچا سکے گا..”
حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا.. “یہ معاملہ آپ جانیں اور اللہ.. لیکن یہ اس کا گھر ھے اور آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ھونے دیا.. ” یہ کہ کر وہ ابرھہ کے پاس سے اٹھ گئے اور ابرھہ سے واپس لیے گئے اونٹ لیکر مکہ آگئے..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *