قسط نمبر 4 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(( سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. ))

قسط 4..

قریش اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبہ کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے لہذا حضرت عبدالمطلب نے انہیں کہا کہ سب اپنے بال بچوں اور مال مویشی لیکر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ھو..

پھر وہ قریش کے چند سرداروں کے ساتھ حرم کعبہ پہنچے اور اللہ کے حضور اپنی کمزوری کا اظہار کرکے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر کی خود حفاظت فرماۓ.. مؤرخین نے حضرت عبدالمطلب کے جو دعائیہ اشعار نقل کیے وہ یہ ھیں..

“الہی! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ھے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما.. کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر غالب نہ آنے پاۓ.. صلیب کی آل کے مقابلے پر آج اپنی آل کی مدد فرما..

اے میرے رب ! تیرے سوا میں ان کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا.. اے میرے رب ! ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما..”

یہ دعائیں مانگ کر حضرت عبدالمطلب بھی سرداران قریش کے ساتھ باقی اھل مکہ کے پاس پہاڑوں میں چلے گئے..

دوسرے روز ابرھہ نے مکہ پر حملہ کا حکم دیا اور وہ مکہ میں داخل ھونے کے لیے آگے بڑھا مگر حیرت انگیز طور پر اس کا خاص ھاتھی “محمود” مکہ کی طرف چلنے کی بجاۓ یکایک وھیں بیٹھ گیا اور بےپناہ کوشش کے باوجود بھی اپنی جگہ سے نہ ھلا مگر جب اس کا مونھ شام کی طرف کیا گیا تو اٹھ کر چلنے لگا اور یمن کی طرف رخ ھوا تو ادھر بھی دوڑنے لگا مگر مکہ کی طرف اسے چلانے کی کوشش کی جاتی تو ایک انچ ادھر نہ بڑھتا.. نتیجتہ” باقی ھاتھیوں سمیت سارا لشکر بھی اپنی جگہ انتظار میں رکا ھوا تھا..

ابھی وہ اسی چکر میں پھنسے تھے کہ اللہ کے قہر نے ان کو آ لیا اور اللہ کے حکم سے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ ان پر نازل ھوگئے.. ھر ابابیل کے چونچ اور دونوں پنجوں میں سنگریزے دبے ھوۓ تھے.. ابرھہ اور اس کے لشکر کے وھم و گمان میں بھی نہ ھوگا کہ ان کے ساتھ کیا ھونے والا ھے.. ابابیلوں نے عین ان کے اوپر آ کر وہ سنگ ریزے گرانا شروع کردیے..

وہ سنگ ریزے , سنگ ریزے کہاں تھے.. وہ تو اللہ کا عذاب تھے.. جس پر جہاں گرتے , بجاۓ صرف زخمی کرنے کے کسی چھوٹے بم کی سی تباھی مچا دیتے.. اللہ کے گھر پر حملہ کرنے کی جرآت کرنے والوں کے لیے کہیں کوئی جاۓ پناہ نہ تھی..

تھوڑی ھی دیر میں ابرھہ اپنے 60 ھزار کے لشکر اور 13 ھاتھیوں سمیت سنگریزوں کی اس بارش میں اپنے انجام کو پہنچا اور یوں پہنچا کہ جیسے کھایا ھوا بھوسہ ھو.. ھر طرف انسانی لاشیں چیتھڑوں کے روپ میں پڑیں تھیں..

یہ واقعہ 571 عیسوی میں محرم کے مہینہ میں مزدلفہ اور منی’ کے درمیان وادی محصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا.. جس سال یہ واقعہ پیش آیا اھل عرب اسے عام الفیل کہتے ھیں جبکہ اسی سال اس واقعہ کے 50 دن بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارک ھوئی
جب حضرت ابراھیم علیہ السلام نے حضرت اسمائیل علیہ السلام کے ساتھ ملکر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو آپ کی تبلیغ سے قبائل جرھم و قطورا نے دین ابراھیمی قبول کرلیا اور اللہ کو ایک خدا مان لیا.. حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بعد حضرت اسمائیل علیہ السلام کے اثر سے بعد میں مکہ آباد ھونے والے بھی دین حنیف یعنی حضرت ابراھیم علیہ السلام کا دین قبول کرتے رھے.. تب آل اسمائیل سمیت تمام قبائل مکہ صرف ایک واحد خدا کی عبادت کے قائل تھے اور خانہ کعبہ کا تقدس پوری طرح سے قائم تھا لیکن جب حضرت اسمائیل علیہ السلام کی وفات کے بعد پھر کوئی نبی اھل مکہ کی راھنمائی کے لیے مبعوث نہ ھوا تو آھستہ آھستہ ان میں شرک و گمراھی پھیلنے لگی..
پچھلی ایک قسط میں ذکر کیا گیا کہ جب مکہ پر قبیلہ ایاد و بنو خزاعہ یکے بعد دیگرے حملہ آور ھوۓ تو بنو اسمائیل کے کئی قبائل کو مکہ چھوڑنا بھی پڑا.. تب یہ لوگ برکت کی غرض سے کعبہ کا ایک پتھر بھی اپنے ساتھ لے گئے.. کعبہ سے نسبت کی وجہ سے وہ اس کی بہت تعظیم کرنے لگے.. اس تعظیم کا اثر یہ ھوا کہ آھستہ آھستہ آنے والے وقت میں ان کی آل اولاد نے خود اسی پتھر کو معبود مجازی کا درجہ دے دیا.. اس طرح ان میں شرک رائج ھونا شروع ھوا..
لیکن حقیقی معنوں میں عربوں اور خصوصا” اھل مکہ میں باقائدہ شرک و بت پرستی کا آغاز حضرت ابراھیم علیہ السلام سے کم و بیش ڈھائی ھزار سال بعد ھوا جب بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کیا.. عربوں میں بت پرستی کا آغاز کرنے والا قبیلہ خزاعہ کا سردار ” عمرو بن لحی” تھا.. یہ شخص خانہ کعبہ کا متولی تھا.. ایک بار جب وہ شام گیا تو وھاں اس نے لوگوں کو بتوں کی پرستش کرتے دیکھا..
یہ کل پانچ بت تھے جن کے نام “ود , یغوث , سواع , یعوق اور نسر” تھے.. ان بتوں کو قوم نوح علیہ السلام پوجا کرتی تھی.. یہ شخص وھاں سے ان کے بت ساتھ لے آیا اور واپسی پر ان کو جدہ کے ایک مقام پر دفن کردیا.. جب مکہ واپس پہنچا تو وھاں مشھور کیا کہ اسے اس کے تابع جن نے ان بتوں کا پتہ بتایا ھے جنہیں قوم نوح پوجا کرتی تھی.. پھر وہ اھل مکہ کو جو پہلے ھی شرک و بت پرستی کی طرف راغب ھوچکے تھے , ساتھ لیکر جدہ پہنچا اور وھاں سے وہ بت زمین کھود کر نکال لیے اور انہیں مکہ لا کر خانہ کعبہ میں رکھ دیا جھاں تعظیم کے نام پر ان بتوں کی عبادت شروع ھوگئی اور ان بتوں کو مختلف خدائی صفات کا مالک تصور کیا جانے لگا..
آھستہ آھستہ اھل مکہ خود نئے نئے بتوں کو ڈھالنے لگا اور تب بہت سے ایسے بت بناۓ گئے جنہیں آنے والے دور میں مشرکین عرب میں بے پناہ اھمیت حاصل ھوئی..
چونکہ کعبہ کی وجہ سے مکہ پورے جزیرہ نما عرب کا مرکز تھا تو جب باھر سے مختلف قبائل کے لوگ حج کے دنوں میں مکہ آتے تو وھاں ان بتوں کی پرستش ھوتے دیکھ کر واپسی پر ان بتوں کی شبیہیں بنوا کر ساتھ لے جاتے اور اپنے علاقے میں ان کو نصب کرکے ان کی پوجا شروع کردیتے..

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *