Category Archives: Uncategorized

~~صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل~~

آیا صوفیہ دوبارہ مسجد میں تبدیل
اردگان نے 24برس بعد وعدہ پورا کردیا
ترکی کی اعلیٰ عدالت نے متفقہ طور پر دنیا کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ (Hagia Sophia Museum) کو دوبارہ بحیثیت مسجد بحال اور 1935 میں اتاترک کابینہ کا آیا صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا۔ اردگان نے 24 برس بعد اپنا وعدہ پورا کردیا۔ آیا صوفیہ اب سلطان فاتح کے فرمان کے مطابق مسجد ہوگی۔ اتاترک نے 1935 میں اسے میوزیم میں تبدیل کیا تھا۔ صدر اردگان نے اس سے قبل آیا صوفیہ کو مسجد قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ ترک عدالت کے فیصلے پر شور مچانے والوں کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے صدر اردگان نے کہا کہ آیا صوفیہ کی حیثیت پر بیرونی بیان بازی ہماری سالمیت پر حملہ تصور ہوگی۔ اس موقع پر اردگان نے استنبول میں ایک اور مسجد کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیا (ہمارے جعلی مسلمان حکمران مسجد گرانے اور مندر بنانے میں مصروف ہیں)۔ ترک صدر نے کہا ترکی میں مسلم اکثریت آباد ہے، جن کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ طور پر عبادت گزاری اور تہواروں کو منانے کا حق رکھتے ہیں جن کا تحفظ ہماری ذمے داری ہے۔
تاریخی پس منظر:
ایا صوفیہ، سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ ہونے تک مسیحیوں کا دوسرا بڑا مذہبی مرکز بنا رہا ہے، تقریباً پانچویں صدی عیسوی سے مسیحی دنیا دو بڑی سلطنتوں میں تقسیم ہو گئی تھی، ایک سلطنت مشرق میں تھی جس کا پایہ تخت قسطنطنیہ تھا، اور اس میں بلقان، یونان، ایشیائے کوچک، شام، مصر اور حبشہ وغیرہ کے علاقے شامل تھے، اور وہاں کا سب سے بڑا مذہبی پیشوا بطریرک (Patriarch) کہلاتا تھا۔ اور دوسری بڑی سلطنت مغرب میں تھی جس کا مرکز روم (اٹلی) تھا۔ یورپ کا بیشتر علاقہ اسی کے زیر نگیں تھا، اور یہاں کا مذہبی پیشوا پوپ یا پاپا کہلاتا تھا۔ ان دونوں سلطنتوں میں ہمیشہ سیاسی اختلافات کے علاوہ مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات جاری رہے۔ مغربی سلطنت جس کا مرکز روم تھا وہ رومن کیتھولک کلیسا فرقے کی تھی۔ اور مشرقی سلطنت، آرتھوڈوکس کلیسا فرقے کی تھی۔ ایا صوفیہ کا چرچ یہ آرتھوڈوکس کلیسیا کا عالمی مرکز تھا۔(جہان دیدہ، مفتی تقی عثمانی)
مسیحی اہمیت:
ایا صوفیہ مسیحیوں کے گروہ آرتھوڈوکس کا عالمی مرکز تھا، اس چرچ کا سربراہ جو بطریرک یا “پیٹریارک” کہلاتا تھا، اسی میں مقیم تھا، لہذا نصف مسیحی دنیا اس کو کلیسا کو اپنی مقدس ترین عبادتگاہ سمجھا کرتی تھی۔آیا صوفیہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ وہ روم کے کیتھولک کلیسیا کے مقابلے میں زیادہ قدیم تھا۔ اس کی بنیاد تیسری صدی عیسوی میں اسی رومی بادشاہ قسطنطین نے ڈالی تھی جو روم کا پہلا عیسائی بادشاہ تھا اور جس کے نام پر اس شہر کا نام بیزنطیہ سے قسطنطنیہ رکھا گیا تھا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہ عمارت اور کلیسا پورے عالم عیسائیت کے مذہبی اور روحانی مرکز کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ مسیحیوں کا عقیدہ بن چکا تھا کہ یہ کلیسا کبھی ان کے قبضے سے نہیں نکلے گا۔ اس سے ان کی مذہبی اور قلبی لگاؤ کا یہ عالم ہے کہ اب بھی آرتھوڈوکس کا سربراہ اپنے نام کے ساتھ “سربراہِ کلیسائے قسطنطنیہ” (The Hear of the Church of the Constantinople) لکھتا آیا ہے۔ (حوالہ بالا)
تعمیر:
قسطنطین نے اس جگہ 360ء میں ایک لکڑی کا بنا ہوا کلیسا تعمیر کیا تھا۔ چھٹی صدی میں یہ کلیسا جل گیا تو اسی جگہ قیصر جسٹینین اول نے 532ء میں اسے پختہ تعمیر کرنا شروع کیا اور اس کی تعمیر پانچ سال دس مہینے میں مکمل ہوئی۔ دس ہزار معمار اس کی تعمیر میں مصروف رہے اور اس پر دس لاکھ پاؤنڈ خرچ آیا۔ اس کی تعمیر میں قیصر نے دنیا کے متنوع سنگ مرمر استعمال کیے، تعمیر میں دنیا کے خاص مسالے استعمال کیے گئے۔ دنیا بھر کے کلیساؤں نے اس کی تعمیر میں بہت سے نوادر نذرانے کے طور پر پیش کیے۔ اور روایت ہے کہ جب جسٹینین اول اس کی تکمیل کے بعد پہلی بار اس میں داخل ہوا تو اس نے کہا: “سلیمان میں تم پر سبقت لے گیا”۔ (نبی سلیمان علیہ السلام کے ذریعہ بیت المقدس کی تعمیر پر تکبرانہ اور گستاخانہ جملہ تھا۔ نعوذ باللہ)
اسلامی فتح:
جب 1453ء نے عثمانی سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کیا، اور بازنطینیوں کو شکست ہو گئی تو اس شہر کے مذہبی رہنماؤں اور راسخ العقیدہ عیسائیوں نے اسی کلیسا میں اس خیال سے پناہ لے لی تھی کہ کم از کم اس عمارت پر دشمن کا قبضہ نہیں ہو سکے گا۔ مشہور انگریز مؤرخ ایڈورڈ گبن منظر کشی کرتے ہوئے لکھتا ہے:
” گرجا کی تمام زمینی اور بالائی گیلریاں باپوں، شوہروں، عورتوں، بچوں، پادریوں، راہبوں اور کنواری ننوں کی بھیڑ سے بھر گئی تھی، کلیسا کے دروازوں کے اندر اتنا ہجوم تھا کہ ان میں داخلہ ممکن نہ رہا تھا۔ یہ سب لوگ اس مقدس گنبد کے سائے میں تحفظ تلاش کر رہے تھے جسے وہ زمانہ دراز سے ایک ملأ اعلی کی لاہوتی عمارت سمجھتے آئے تھے۔ یہ سب ایک افترا پرداز الہام کی وجہ سے تھا جس میں

یہ جھوٹی بشارت تھی کہ جب ترک دشمن اس ستون
(قسطنطین ستون) کے قریب پہنچ جائیں گے تو آسمان سے ایک فرشتہ ہاتھ میں تلوار لیے نازل ہوگا اور اس آسمانی ہتھیار کے ذریعے سلطنت ایک ایسے غریب آدمی کے حوالے کر دے گا جو اس وقت اس ستون کے پاس بیٹھا ہوگا۔(The Decline and Fall of the Roman Empire. 697, 696) “
لیکن ترک عثمانی فوج اس ستون سے بھی آگے بڑھ کر صوفیہ کلیسا کے دروازے تک پہنچ گئے، نہ کوئی فرشتہ آسمان سے نازل ہوا اور نہ رومیوں کی شکست فتح میں تبدیل ہوئی۔ کلیسا میں جمع عیسائیوں کا ہجوم آخر وقت تک کسی غیبی امداد کا منتظر رہا۔ بالآخر سلطان محمد فاتح اندر داخل ہوگئے، اور سب کے جان مال اور مذہبی آزادی کی ضمانت دی۔
فتح کے دن فجر کی نماز کے بعد سلطان محمد فاتح نے یہ اعلان کیا تھا کہ “ان شاءاللہ ہم ظہر کی نماز ایا صوفیہ میں ادا کریں گے”۔ چنانچہ اسی دن فتح ہوا اور اس سر زمین پر پہلی نماز ظہر ادا کی گئی، اس کے بعد پہلا جمعہ بھی اسی میں پڑھا گیا۔
آیا صوفیہ مسجد:
قسطنطنیہ چونکہ سلطان کی طرف سے صلح کی پیشکش کے بعد بزور شمشیر فتح ہوا تھا، اس لیے مسلمان ان کلیساؤں کو باقی رکھنے کے پابند نہ تھے اور اس بڑے چرچ کے ساتھ جو توہمات اور باطل عقیدے وابستہ تھے انھیں بھی ختم کرنا تھا۔ اس لیے سلطان محمد فاتح نے اس چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا ارادہ کیا، چنانچہ اسے مال کے ذریعہ خریدا گیا، اس میں موجود رسموں اور تصاویر کو مٹا دیا گیا یا چھپا دیا گیا اور محراب قبلہ رخ کر دی گئی، سلطان نے اس کے میناروں میں بھی اضافہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد یہ مسجد “جامع آیا صوفیہ” کے نام سے مشہور ہو گئی اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ تک تقریباً پانچ سو سال تک پنجوقتہ نماز ہوتی رہی۔
عمارت:
آیا صوفیہ کے سامنے ایک خوبصورت چمن ہے، اس کے بعد اس کا مرکزی دروازہ ہے، دورازے کے دونوں طرف وہ پتھر نصب ہیں جہاں پہرہ دار کھڑے ہوتے تھے۔ اندر وسیع ہال ہے جو مربع شکل کا ہے، اس کی وسعت غلام گردش اور محراب کو چھوڑ کر جنوباً شمالاً 235 فٹ ہے، بیچ کے گنبد کا قطر 107 فٹ اور چھت کی اونچائی 185 فٹ ہے۔ پوری عمارت میں 170 ستون
۔ چاروں کونوں پر مسلمانوں نے چھ ڈھالوں پر اللہ، محمد، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی نہایت خوشخط لکھ کر لگایا ہوا ہے۔ اوپر چھت کی طرف بڑے بڑے خوبصورت روشندان بنے ہوئے ہیں۔ عمارت میں سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے، بیشمار تختیاں لگی ہوئی ہیں جن پر عربی خط میں لکھا اور نقش ونگار کیا گیا ہے۔
آیا صوفیہ میوزیم:
آیا صوفیہ کی عمارت فتح قسطنطنیہ کے بعد سے 481 سال تک مسجد اور مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی۔ لیکن سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کے بعد جب مصطفی کمال اتاترک ترکی کا سربراہ بنا، تو اس نے اس مسجد میں نماز بند کر کے اسے میوزیم (عجائب گھر، نمائش گاہ) بنا دیا اور کل تک یہ نمائش گاہ تھی اور آج سے دوبارہ مسجد بن گئی۔ الحمدللہ
مسجد بحالی کا مطالبہ:
31 مئی 2014ء کو ترکی کی “نوجوانان اناطولیہ” نامی ایک تنظیم نے مسجد کے میدان میں فجر کی نماز کی مہم چلائی جو آیا in be کو مسجد بحالی کے مطالبے پر مبنی تھی۔ اس تنظیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے دیڑھ کروڑ لوگوں کی تائیدی دستخطوں کو جمع کیا ہے۔ لیکن اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر نے بیان دیا کہ ابھی ایا صوفیہ کو مسجد میں بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ستمبر 2018 میں آئینی عدالت نے ایک غیر جانبدار تاریخی ورثہ ایسوسی ایشن کی جانب سے اس عمارت کو نماز کے لیے کھولنے کی درخواست کو مسترد کی تھی۔ 1994 میں جب ترک صدر رجب طیب اردگان اسنتبول کے ناظم کا انتخاب لڑ رہے تھے تو انہوں نے اس عمارت کو نماز کے لیے کھولنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ 2018 میں وہ یہاں قرآن کی تلاوت بھی کرچکے ہیں۔ اس کے بعد اسے دوبارہ مسجد بنانے کیلئے قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ جس کا فیصلہ جمعرات کو سنایا جانا تھا۔ مگر عدالت نے فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ جسے کل سنایا گیا۔ واضح رہے کہ آیا صوفیہ دنیا کے چند مشہور سیاحتی مراکز میں سے ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح آیا صوفیہ کو دیکھنے کے آتے ہیں۔ یہ 2019 میں 38 لاکھ سیاحوں کے ساتھ ترکی کا معروف ترین مقام تھا۔ اردگان کا کہنا ہے کہ مسجد بحالی کے بعد اسے سیاحوں کیلئے بلامعاوضہ کھولا جائے گا۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

عنوان: رسول اللہﷺکے جلیل القدرصحابی ٗخلیفۂ سوم

امیرالمؤمنین ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے چھ سال بعدہوئی،قبیلۂ قریش کے مشہورخاندان ’’بنوامیہ ‘‘ سے تعلق تھا،سلسلۂ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف پررسول اللہ ﷺ کے نسب سے جاملتاہے،مزیدیہ کہ ان کی نانی ’’اُم حکیم‘‘رسول اللہ ﷺ کے والدگرامی جناب عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں ۔
٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی زمانۂ جاہلیت میں بھی انتہائی شریفانہ تھی جس کی وجہ سے قبیلۂ قریش میں نیزتمام شہرمکہ میں انہیں انتہائی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،اُس دورمیں جب ہرکوئی لہوولعب کادلدادہ اورشراب کاازحدرسیا تھا… مگرایسے میں بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کادامن ہمیشہ لہوولعب سے پاک رہا، اوران کے لب جامِ شراب سے ہمیشہ ناآشنارہے۔
٭مکہ شہرمیں دینِ اسلام کاسورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص دوستی اورقربت تھی ، دونوں میں بہت گہرے روابط تھے،حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ٗاورحضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعدحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چوتھے شخص تھے جنہوں نے دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے دینِ اسلام قبول کیا، تب ان کی عمرچونتیس سال تھی۔
٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ’’السابقین الأولین‘‘یعنی بھلائی میں سبھی لوگوں پر سبقت لے جانے والوں میں سے تھے،یعنی وہ عظیم ترین افرادجنہوں نے بالکل ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا کہ جب مسلمانوں کیلئے بہت ہی مظلومیت اوربے بسی وبے چارگی کازمانہ چل رہاتھا…یہی وجہ ہے کہ ان حضرات کابڑامقام ومرتبہ ہے ،ان کیلئے عظیم خوشخبریاں ہیں ٗ اورانہیں قرآن کریم میں ’’السابقین الأولین‘‘کے نام سے یادکیاگیاہے۔
٭مزیدیہ کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘یعنی ان دس خوش نصیب ترین افراد میں سے تھے جنہیں اس دنیاکی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایاتھا۔
٭نیزرسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کومتعددمواقع پر ’’شہادت‘‘ کی خوشخبری بھی سنائی تھی،اور’’مظلومیت‘‘کی خبربھی دی تھی۔
٭حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کورسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزیدیہ شرف بھی حاصل تھاکہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے دامادبھی تھے، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہااورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح ایامِ جاہلیت میں ابولہب کے بیٹوں عتبہ اورعتیبہ سے ہواتھا،آپ ﷺ نے جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ حکم {وَأنذِرعَشِیرَتَکَ الأقرَبِینَ} (۱) (یعنی:’’آپؐ اپنے قریبی رشتے داروں کو[اللہ کے عذاب سے]ڈرائیے‘‘)کی تعمیل کے طورپراپنے خاندان ’’بنوہاشم‘‘کوکوہِ صفاپرجمع کرکے دینِ برحق کی طرف دعوت دی ٗ تواس موقع پرابولہب بگڑگیا،اوریوں کہنے لگا: تَبّاً لَکَ ! أمَا دَعَوتَنَا اِلّا لِھٰذا…؟ یعنی:(نعوذباللہ) اے محمد! تم ہلاک جاؤ،کیاتم نے ہمیں اسی لئے یہاں بلایاتھا…؟(۲) ابولہب کی اس بیہودہ گوئی پرآپؐ انتہائی رنجیدہ ودل گرفتہ ہوئے،جس پرآپؐ کی تسلی ودلجوئی کیلئے سورۃ المسد{تَبّت یَدَا أبِي لَھَب وَتَبَّ…} نازل ہوئی(یعنی :’’ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اوروہ خودبھی ہلاک ہوجائے…‘‘)
اس پرابولہب مزید مشتعل ہوگیااوراس نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اورعتیبہ کوحکم دیاکہ وہ آپؐ کی صاحبزادیوں ( حضرت رقیہ ؓ ،وحضرت ام کلثومؓ)کوطلاق دے کرگھرسے نکال دیں ، چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا۔(۱)
کچھ عرصہ گذرنے کے بعدآپؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی شادی اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردی،ان دونوں نے نبوت کے پانچویں سال مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت کی،جہاں اللہ نے انہیں بیٹاعطاء فرمایا،اس کے بعدنبوت کے دسویں سال ایک غلط فہمی کے نتیجے میں یہ دونوں میاں بیوی حبشہ سے واپس مکہ چلے آئے اورازسرِنومشرکینِ مکہ کی طرف سے تکلیفوں اوراذیتوں کے اسی سلسلے سے دوچارہوناپڑا…اورپھرنبوت کے تیرہویں سال ہجرتِ مدینہ کاحکم نازل ہونے کے بعدمکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔
٭حبشہ میں قیام کے دوران ان دونوں میاں بیوی کے یہاں جس بیٹے کی ولادت ہوئی تھی ،اب مدینہ میں قیام کے دوران ان کایہ لختِ جگرجب چھ سال کاتھا…ایک روزاپنے گھرکے سامنے کھیل کودمیں مشغول تھاکہ اس دوران اچانک کسی جانب سے ایک لڑاکامرغاآیا اوراس بچے کی آنکھ میں چونچ ماری،جس کی وجہ سے چنددن شدیدزخمی رہنے کے بعدیہ بچہ داغِ مفارقت دے گیا…اس کے بعدحضرت رقیہ رضی اللہ کی عنہاکی کوئی اوراولادنہیں ہوئی۔
٭حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاہجرتِ حبشہ کے موقع پراپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے دوری اورجدائی کے صدمے کی وجہ سے بیماررہنے لگی تھیں ،اب اپنے اکلوتے کم سن لختِ جگرکی اس اچانک موت نے انہیں نڈھال کرڈالا…جس پروہ مستقل صاحبِ فراش ہوگئیں ،اورپھرجلدہی سن دوہجری میں عین غزوۂ بدرکے روزمدینہ میں ان کاانتقال ہوگیا…تب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خاندانِ نبوت سے رشتہ منقطع ہوجانے پر انتہائی افسردہ ورنجیدہ رہنے لگے،لہٰذا آپ ؐنے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کانکاح حضرت عثمان ؓبن عفان رضی اللہ عنہ سے کردیا،اسی دوہرے شرف کی وجہ سے وہ ’’ذوالنورین‘‘ (یعنی دونوروں والا)کے لقب سے معروف ہوئے۔(۱)
٭سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق کے بعدجب آپ ﷺ اپنے رب کی طرف سے غیبی اشارہ ملنے پر(۲) اگلے ہی سال یعنی سن چھ ہجری میں عمرے کی ادائیگی کی غرض سے مکہ کی جانب عازم سفرہوئے،اس موقع پر آپؐ جب مکہ شہرسے کچھ فاصلے پر’’حدیبیہ‘‘نامی مقام پر پہنچے تومعلوم ہواکہ مشرکینِ مکہ توقتل وخونریزی اورفتنہ وفسادپرآمادہ ہیں ، جس پرآپؐ نے ان کے ساتھ گفت وشنیدکی غرض سے بطورِسفیرحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کوروانہ
(۱) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سن دوہجری میں ہوئی ،اس کے بعدسن تین ہجری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کانکاح حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاسے ہوا،اورپھرسن ۹ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی غزوۂ تبوک سے مدینہ واپسی کے فوری بعدحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہاکاانتقال ہوا،جبکہ اس سے محض ایک سال قبل یعنی سن آٹھ ہجری میں آپؐ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاکابھی انتقال ہوچکاتھا۔
فرمایا،حضرت عثمانؓ جب وہاں پہنچے توان لوگوں نے انہیں اپنے پاس روک لیااوریہ خبرمشہورکردی کہ ہم نے عثمان کوقتل کرڈالاہے…تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا’’عثمان کے خون کابدلہ لینافرض ہے‘‘اورپھراس موقع پرآپؐ نے اپنے تمام ساتھیوں سے جاں نثاری وسرفروشی کی وہ تاریخی بیعت لی،جسے ’’بیعتِ رضوان‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے(۱)اس موقع پرآپؐ نے اپناہی ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پررکھتے ہوئے ارشادفرمایا’’یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے‘‘یقینااس سے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اہمیت اورقدر ومنزلت واضح وثابت ہوتی ہے۔
جبکہ اُدھرشہرمکہ میں ان مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کوپیشکش کرتے ہوئے کہا’’ آپ جب عرصۂ درازکے بعدمکہ پہنچ ہی گئے ہیں ، تواب آپ بیت اللہ کاطواف توکرلیجئے‘‘
ان کی طرف سے اس پیشکش کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے فرمایا: مَا کُنتُ لأفعَل ، حَتّیٰ یَطُوفَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ۔ یعنی’’جب تک خودرسول اللہ ﷺ بیت اللہ کاطواف نہیں کرلیں گے اُس وقت تک میں بھی نہیں کروں گا‘‘ ۔
یقینااس سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دل میں رسول اللہ ﷺ کیلئے موجزن بے مثال قلبی تعلق اوروالہانہ عقیدت ومحبت کااظہارہوتاہے۔
٭دینِ اسلام کے بالکل ابتدائی دورسے ہی رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ’’وحی‘‘نیزدیگرضروری اورخاص رازکی باتیں تحریرکروایاکرتے تھے،اورپھراس کے بعدبھی طویل عرصہ تک حضرت عثمانؓ ہی ’’کتابتِ وحی‘‘کامقدس فریضہ انجام دیتے رہے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرمایاکرتی تھیں ’’مجھے وہ منظراب بھی بخوبی یادہے کہ رسول اللہ ﷺ عثمان کواپنے قریب بٹھاکران سے ’’وحی‘‘لکھوایاکرتے تھے…‘‘اس کے بعدمزیدفرمایاکرتی تھیں : فَوَاللّہِ مَا کَانَ اللّہُ لِیُنزِلَ عَبداً مِن نَبِیِّہٖ تِلکَ المَنزِلَۃَ اِلّا کَانَ عَلَیہِ کَرِیماً ۔ یعنی’’اللہ کی طرف سے یقینااپنے کسی ایسے بندے کوہی اپنے نبی کااس قدرخاص قرب عطاء کیاجاسکتاہے کہ جواللہ کے نزدیک اس قابل ہو…‘‘۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دلچسپ واقعہ

حضرت امیر معاویہؓ حضورؐ کی خدمت میں بیٹھے ہیں.ایک شہزادہ آکر کہتا ہے یا رسول اللّٰہؐ!میں عیسائیوں کا شہزادہ ہوں.غستان کی ریاست سے آیا ہوں.میرا باپ بادشاہ ہے.میں نے تورات اور انجیل میں اپنے راہیوں اور پادریوں سے سنا ہے کہ آپ آخرالزمان نبی ہے.
میں اسی علاقے میں آیا تھا تو میں زیارت کیلیے آگیا.وہ چلنے لگا تو کہنے لگا یا رسول اللّٰہؐ!میں اگر تحفہ اور ہدیہ آپؐ کو دوں تو آپؐ قبول کرینگے.حضورؐ نے فرمایا ضرور میں تیرا تحفہ قبول کرونگا.اب وہ رخصت ہوتا ہے تو کہتا ہے میرا سامان چھ میل کی فاصلے پر ایک جگہ پڑا ہے.
آپؐ کسی خادم کو میرے ساتھ بھیج دیں جو ہدیہ لے آیےحضورؐ کے خصوصی خدام میں حضرت انسؓ کا نام مشہور ہے یا حضرت زیدؓ کا نام مشہور ہے, لیکن اس وقت ان دونوں میں کوئ نہیں تھا,حضرت معاویہؓ حضورؐ کی خدمت میں بیٹھے تھے اور ان کی عمر 24سال تھی.حضورؐ نے فرمایا معاویہ!جاؤ اس عیسائ کےساتھ,شہزادے کے ساتھ جاؤ,جو چیز تمہیں دے لے آؤ.حضرت معاویہؓ اس شہزادے کیساتھ چل پڑے
حضرت معاویہؓ جب چلے حضورؐ کا حکم تھا کہ چلو.وہ چل پڑے۔
جوتا ان کا دوسری طرف پڑا تھامسجد کے.جوتا نہیں پہنا کہ حضورؐ کا حکم ہے چلو اور یہ شہزادہ جارہا ہےمیں اس کے ساتھ چلوں.اب شہزادہ مسجد سے باہر نکلا.حضرت معاویہؓ بھی نکلے عرب کی گرمی, دھوپ ہے,ریت ہے,صحرا ہے,جب باہر مدینہ سے نکلے.حضرت معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے تو حضرت معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے تو حضرت معاویہؓ نے اس شہزادے سے کہا کہ اپنا جوتا مجھے دےدو یا اپنی سواری پر سوار کرلو.تو اس شہزادے نے کہا کہ تو کمی ہے,تو نوکر ہے,تو غلام ہے.میں شہزادہ ہوں.میں کمیوں کو اپنا جوتا کیسے دےدوں تو کمی اور نوکر ہے
حضرت معاویہؓ تو مکہ کے سردار ابوسفیانؓ کے لڑکے تھے,لیکن آج تو حکم پیغمبرؐ کا تھا.حضرت معاویہؓ خاموش ہوگیے اور چھ میل تک اس گھوڑ سوار شہزادے کیساتھ عرب کی دھوپ اور ریت میں امیر معاویہؓ بھاگتے رہے.چھ میل بعد اس کا پڑاو آیا.اس نے حضرت معاویہؓ کو سامان دیا.حضرت معاویہؓ سامان لے کر واپس آیے
حضورؐ نے پوچھا معاویہؓ تم کیسے گیے اور کیسے آیے
حضرت معاویہؓ نے سارا واقعہ بیان کیا.حضورؐ بڑے خوش ہوے کہ بغیر جوتے کے دھوپ میں گیا.تجھے اس نے کمی کہا تو تم واپس کیوں نہیں آیے.حضرت معاویہؐ نے فرمایا یا رسول اللّٰہؐ حکم آپؐ کا تھا.میرے تو پاؤں جلتے ہیں میرا جسم بھی جل جاتا تو معاویہ واپس نہیں آتا.حضورؐ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرے امت کا سب سے بڑے حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے.
اس واقعے کے وقت حضرت معاویہؓ کی عمر 24سال تھی پورے 34سال گزرجانے کے بعدجب حضرت معاویہؓ دمشق کے تخت پر خلیفہ بنےاور ساری دنیا کے نصف حصّےسے زیادہ پر حضرت معاویہؓ کو حکومت ملی اورتن تنہا دنیا میں اتنا بڑااسلامی حکمران بنا.
حضرت معاویہؓ کی فوجیں ملک غسان کو فتح کرنے گیئں.تین مہینے بعد فوج واپس آئ تو مبارک باد پیش کی گئ کہ امیرالمونین!غسان فتح ہوگیااور ہم چھ ہزار قیدی قید کرکے لائے ہیں(سپہ سالار نے کہا).حضرت معاویہؓ کے دربار میں جب وہ چھ ہزار قیدی پیش کیے گیے.ان کے ہاتھ اور پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے.
حضرت معاویہؓ نے ان قیدیوں کو دیکھا تو سب سے آگے جو قیدی تھاوہی غسان کی ریاست کا شہزادہ تھا.جس شہزادہ نے معاویہؓ کو پہننے کیلیے جوتا نہیں دیا تھااور حضرت معاویہؓ نے دیکھا کہ یہ وہی شہزادہ ہے.پہچان لیا.حضرت معاویہؓ نے فرمایا!شہزادے کو میرے مہمان خانے میں لے جاو.ایک مہینہ تک حضرت معاویہؓ اپنے مہمان خانے میں اس کی میزبانی کرتے رہے.اس نے نہیں پہچانا کہ یہ امیرالمومنین ہے.یہ حضرت معاویہؓ وہی پیغمبرؐ کا غلام ہے جس کو میں نے کمی کہا تھا.اس نے نہیں پہچانا.
جب ایک مہینہ بعد وہ جانے لگا.تو معاویہؓ نے فرمایا کہ میں نے تیری وجہ سے سارے قیدیوں کو رہا کردیا اور تجھے بھی رہا کیا.اب وہ رخصت ہوتا ہے.دس ہزار درہم معاویہؓ نے اسے ہدیہ کے طور پر دییے.تو وہ لوگوں سے پوچھتا ہے یہ کون ہے.
انہوں نے بتایا کہ یہ امیر معاویہؓ بن ابوسفیان ہے.سفیان کا لڑکا ہے .رسول اللّٰہؐ کا غلام ہے.اب اس کے ذہن میں آیا کہ یہ تووہی نوجوان ہے جس کو میں نے پہننے کیلیے جوتا نہیں دیا تھا.اور میں نے اس کو کہا تھا کہ تو “کمی” ہے.اب اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں.
حضرت معاویہؓ کے پاس آکر کہنے لگاامیرالمونین!آپ وہی معاویہؓ ہے جو میرے ساتھ پیدل گیے تھے حضرت معاویہؓ نے فرمایا اے شہزادے!ہاں میں محمدؐ کا وہی کمی ہوں,میں محمدؐ کا وہی نوکر ہوں.اس نے کہا میں شرمندہ ہوں.حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تجھے پہلی مرتبہ ہی پہچان لیا تھااور سب کچھ میں نے پہچاننے کے بعد کیا.تیرا اخلاق یہ تھا کہ تو نے مجھے جوتا نہ دیا.شاید تیرے مذہب نے تجھے یہ اخلاق سکھایاہواور میرااخلاق یہ تھاکہ تو نے میرے ساتھ جو سلوک کیامیں نے وہ تجھے بتلایا بھی نہیں.میں نے وہ تجھے پوچھا بھی نہیں.میں نے پہچان کر تیری رسیاں کھلوایئں.میں نے پہچان کر تیرے ہاتھ کھلوائےاور پہچان کر تجھے مہمان بنایا.پہچان کر تجھے دس ہزار درہم دیئے.وہ زاروقطار رونے لگا اور کہنے لگاامیرالمونین!میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھےتیرے سے زیادہ کوئی حوصلے والا نہیں دیکھا مجھے جلدی کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیجئے.
اسی بات کوحضورؐ نے فرمایا تھا…..احلم_من_امتی_معاویہ….
میری امت کا سب سے بڑا حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے

*💕بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز💕*

*💕بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز💕*
شاہ جی کا گھرانہ جب سے پڑوس میں آباد ہوا تھا محلے میں غیر محسوس انداز سے چند اچھی روایات  کا پھر سے احیاء ہوا تھا لیکن اس میں سارا کمال ان کے چھوٹے سے کم سن برخودار زین کا تھا…

وہ تقریبا” ہر روز کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز یا سالن بھلے تھوڑی سی مقدار ہی میں صحیح لیکن ہمسائے میں بانٹنے آتا… بڑی معصومیت سے پلیٹ پکڑاتے ہوئے کہتا… نانا جی نے بھیجا ہے “

ہم شکریہ سے رکھ لیتے اور نانا جی کو سلام کا کہتے وہ فورا” وعلیکم السلام کہہ کر پلٹ جاتا… کبھی کسی کا ختم کبھی کسی کی ولادت … ہم بڑوں تک کو معلوم نہ ہوتا لیکن متانت سے رکھ لیتے… کبھی ویسے ہی تحفتہ” کہ ہم نے بوٹی چاول بنائے تھے۔ آپ بھی لیں…

بہت پیارا اور حسین سا معصوم چہرہ تھا لیکن ماں یا نانا کی تربیت بھی خوب تھی… اب شرما شرمی اور بھی کچھ گھرانے ایک دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر کھانا شروع ھو گئے تھے… اور بچے ہی نہی ہم بڑے بھی سلام کرنے میں پہل کرنے لگے تھے… لیکن ہم نے اس کے والد کے سواء کم ہی کسی کو دیکھا تھا… سید تھے تو پردہ تو سخت تھا ہی… لیکن نانا جی بھی کبھی چھت یا گلی میں نظر نہ آئے… چھت پر بھی وہی بچہ پرندوں کو دانہ دنکا ڈالتا نظر آتا…
لیکن آج تو کمال ہی ھو گیا… میں چھوٹے شاہ جی سے پلیٹ پکڑ ہی رہا تھا کہ زلزلہ آگیا… زلزلہ شدید تھا…

میں اور باقی محلے دار تیزی سے باہر کو لپکے… لیکن چھوٹے شاہ جی نے اچانک عجب حرکت کی… اس بچے نے بڑی زور سے زمین پر داہنا پاوں اٹھا مارا اور تحمکانہ لہجے میں گویا ہوا…اے زمین مت کر..!
دیکھتی نہیں … ہم کھڑے تو ہیں..؟

زلزلہ تو خیر رک ہی گیا لیکن ہمیں ہنسی آگئی… ہم سب نے ننھے زین کو گھیر لیا… وہ گھر کو پلٹ رہا تھا…
کہ میں نے پوچھا… شاہ جی اگر یہ آپ کی بات نہ مانتی تو..؟
وہ بے نیازی سے بولا… کیسے نہ مانتی..!

میں نے کہا پھر بھی اگر نہ مانتی تو..؟
نہیں نانا جی نے بتایا ھے ایسا نہیں ہو سکتا…
عجب یقین و اطمنان تھا لہجے میں اور اک شان بے اعتنائی جو ہم بڑوں کو اب چبھ رہی تھی…
یار آج اپنے نانا جان سے تو ملواو…
ہیں…؟

اب وہ تیزی سے پلٹا تھا اور حیران ہماری جانب دیکھ رہا تھا…
آپ لوگ نانا جان سے نہیں ملے..؟
عجب بے یقینی حیرت و اچھنبا تھا اس لہجے میں…!
شیخ صاحب بولے یار ہمیں تو وہ کبھی باہر نظر ہی نہیں آئے..؟
آپ سب ان کو نہیں دیکھتے..؟
وہ حیران و پریشان ہو گیا تھا… تاسف اور شدید درد تھا اس لہجے میں…

کیونکہ ہم سب یک زبان بولے تھے… نہیں…
اچھا… پھر آپ لوگ مدینہ منورہ ہی ھو آئیں…
ایک سنسنی کی لہر تھی جو میرے رگ و پے میں دوڑ گئی…
یہ زلزلہ نہیں بھونچال تھا جو میرے تقوی کے بت کے درپے ہے…
میں میں نہی رہا…
وہ ذات کا ہی نہیں کردار کا بھی سید نکل آیا تھا…

واقعی عشقِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم وصف مصطفٰے صل اللہ علیہ وسلم ہو جانے کا نام ہے…💕

💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا ایک خوبصورت واقعہ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا ایک خوبصورت واقعہ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم ؐصل اللہُ علیہ وآلہ وسلم
کو کیسے دیکھا ؟
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلالؓ نے کہا کہ بس؟
میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا
حضور ﷺ یہ سن کر بھی چلتے رہے بلالؓ کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔
لیکن بلالؓ کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہیں۔
بلالؓ کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟
نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا
بلالؓ سو گئے اور حضور ﷺ نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
صبح بلالؓ کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلالؓ کو دی اور ساری رات چکی پیسی ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلالؓ ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلالؓ کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔
تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر
لبیک! یا سیدی یا رسول ﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا :
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔
مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔💞

علامہ اقبال رحمۃ ﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

قسط نمبر 4 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(( سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. ))

قسط 4..

قریش اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبہ کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے لہذا حضرت عبدالمطلب نے انہیں کہا کہ سب اپنے بال بچوں اور مال مویشی لیکر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ھو..

پھر وہ قریش کے چند سرداروں کے ساتھ حرم کعبہ پہنچے اور اللہ کے حضور اپنی کمزوری کا اظہار کرکے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر کی خود حفاظت فرماۓ.. مؤرخین نے حضرت عبدالمطلب کے جو دعائیہ اشعار نقل کیے وہ یہ ھیں..

“الہی! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ھے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما.. کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر غالب نہ آنے پاۓ.. صلیب کی آل کے مقابلے پر آج اپنی آل کی مدد فرما..

اے میرے رب ! تیرے سوا میں ان کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا.. اے میرے رب ! ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما..”

یہ دعائیں مانگ کر حضرت عبدالمطلب بھی سرداران قریش کے ساتھ باقی اھل مکہ کے پاس پہاڑوں میں چلے گئے..

دوسرے روز ابرھہ نے مکہ پر حملہ کا حکم دیا اور وہ مکہ میں داخل ھونے کے لیے آگے بڑھا مگر حیرت انگیز طور پر اس کا خاص ھاتھی “محمود” مکہ کی طرف چلنے کی بجاۓ یکایک وھیں بیٹھ گیا اور بےپناہ کوشش کے باوجود بھی اپنی جگہ سے نہ ھلا مگر جب اس کا مونھ شام کی طرف کیا گیا تو اٹھ کر چلنے لگا اور یمن کی طرف رخ ھوا تو ادھر بھی دوڑنے لگا مگر مکہ کی طرف اسے چلانے کی کوشش کی جاتی تو ایک انچ ادھر نہ بڑھتا.. نتیجتہ” باقی ھاتھیوں سمیت سارا لشکر بھی اپنی جگہ انتظار میں رکا ھوا تھا..

ابھی وہ اسی چکر میں پھنسے تھے کہ اللہ کے قہر نے ان کو آ لیا اور اللہ کے حکم سے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ ان پر نازل ھوگئے.. ھر ابابیل کے چونچ اور دونوں پنجوں میں سنگریزے دبے ھوۓ تھے.. ابرھہ اور اس کے لشکر کے وھم و گمان میں بھی نہ ھوگا کہ ان کے ساتھ کیا ھونے والا ھے.. ابابیلوں نے عین ان کے اوپر آ کر وہ سنگ ریزے گرانا شروع کردیے..

وہ سنگ ریزے , سنگ ریزے کہاں تھے.. وہ تو اللہ کا عذاب تھے.. جس پر جہاں گرتے , بجاۓ صرف زخمی کرنے کے کسی چھوٹے بم کی سی تباھی مچا دیتے.. اللہ کے گھر پر حملہ کرنے کی جرآت کرنے والوں کے لیے کہیں کوئی جاۓ پناہ نہ تھی..

تھوڑی ھی دیر میں ابرھہ اپنے 60 ھزار کے لشکر اور 13 ھاتھیوں سمیت سنگریزوں کی اس بارش میں اپنے انجام کو پہنچا اور یوں پہنچا کہ جیسے کھایا ھوا بھوسہ ھو.. ھر طرف انسانی لاشیں چیتھڑوں کے روپ میں پڑیں تھیں..

یہ واقعہ 571 عیسوی میں محرم کے مہینہ میں مزدلفہ اور منی’ کے درمیان وادی محصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا.. جس سال یہ واقعہ پیش آیا اھل عرب اسے عام الفیل کہتے ھیں جبکہ اسی سال اس واقعہ کے 50 دن بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارک ھوئی
جب حضرت ابراھیم علیہ السلام نے حضرت اسمائیل علیہ السلام کے ساتھ ملکر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو آپ کی تبلیغ سے قبائل جرھم و قطورا نے دین ابراھیمی قبول کرلیا اور اللہ کو ایک خدا مان لیا.. حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بعد حضرت اسمائیل علیہ السلام کے اثر سے بعد میں مکہ آباد ھونے والے بھی دین حنیف یعنی حضرت ابراھیم علیہ السلام کا دین قبول کرتے رھے.. تب آل اسمائیل سمیت تمام قبائل مکہ صرف ایک واحد خدا کی عبادت کے قائل تھے اور خانہ کعبہ کا تقدس پوری طرح سے قائم تھا لیکن جب حضرت اسمائیل علیہ السلام کی وفات کے بعد پھر کوئی نبی اھل مکہ کی راھنمائی کے لیے مبعوث نہ ھوا تو آھستہ آھستہ ان میں شرک و گمراھی پھیلنے لگی..
پچھلی ایک قسط میں ذکر کیا گیا کہ جب مکہ پر قبیلہ ایاد و بنو خزاعہ یکے بعد دیگرے حملہ آور ھوۓ تو بنو اسمائیل کے کئی قبائل کو مکہ چھوڑنا بھی پڑا.. تب یہ لوگ برکت کی غرض سے کعبہ کا ایک پتھر بھی اپنے ساتھ لے گئے.. کعبہ سے نسبت کی وجہ سے وہ اس کی بہت تعظیم کرنے لگے.. اس تعظیم کا اثر یہ ھوا کہ آھستہ آھستہ آنے والے وقت میں ان کی آل اولاد نے خود اسی پتھر کو معبود مجازی کا درجہ دے دیا.. اس طرح ان میں شرک رائج ھونا شروع ھوا..
لیکن حقیقی معنوں میں عربوں اور خصوصا” اھل مکہ میں باقائدہ شرک و بت پرستی کا آغاز حضرت ابراھیم علیہ السلام سے کم و بیش ڈھائی ھزار سال بعد ھوا جب بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کیا.. عربوں میں بت پرستی کا آغاز کرنے والا قبیلہ خزاعہ کا سردار ” عمرو بن لحی” تھا.. یہ شخص خانہ کعبہ کا متولی تھا.. ایک بار جب وہ شام گیا تو وھاں اس نے لوگوں کو بتوں کی پرستش کرتے دیکھا..
یہ کل پانچ بت تھے جن کے نام “ود , یغوث , سواع , یعوق اور نسر” تھے.. ان بتوں کو قوم نوح علیہ السلام پوجا کرتی تھی.. یہ شخص وھاں سے ان کے بت ساتھ لے آیا اور واپسی پر ان کو جدہ کے ایک مقام پر دفن کردیا.. جب مکہ واپس پہنچا تو وھاں مشھور کیا کہ اسے اس کے تابع جن نے ان بتوں کا پتہ بتایا ھے جنہیں قوم نوح پوجا کرتی تھی.. پھر وہ اھل مکہ کو جو پہلے ھی شرک و بت پرستی کی طرف راغب ھوچکے تھے , ساتھ لیکر جدہ پہنچا اور وھاں سے وہ بت زمین کھود کر نکال لیے اور انہیں مکہ لا کر خانہ کعبہ میں رکھ دیا جھاں تعظیم کے نام پر ان بتوں کی عبادت شروع ھوگئی اور ان بتوں کو مختلف خدائی صفات کا مالک تصور کیا جانے لگا..
آھستہ آھستہ اھل مکہ خود نئے نئے بتوں کو ڈھالنے لگا اور تب بہت سے ایسے بت بناۓ گئے جنہیں آنے والے دور میں مشرکین عرب میں بے پناہ اھمیت حاصل ھوئی..
چونکہ کعبہ کی وجہ سے مکہ پورے جزیرہ نما عرب کا مرکز تھا تو جب باھر سے مختلف قبائل کے لوگ حج کے دنوں میں مکہ آتے تو وھاں ان بتوں کی پرستش ھوتے دیکھ کر واپسی پر ان بتوں کی شبیہیں بنوا کر ساتھ لے جاتے اور اپنے علاقے میں ان کو نصب کرکے ان کی پوجا شروع کردیتے..

جاری ہے

قسط نمبر 3 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(( سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..))

قسط 3..

حضرت ھاشم نے قیصر روم کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرلیے تھے.. چنانچہ اسی سلسلے میں شام کی طرف سفر کے دوران ان کی شادی بنو نجار کی ایک معزز خاتون سلمی’ سے ھوئی مگر بدقسمتی سے اسی سفر کے دوران حضرت ھاشم کا انتقال ھوگیا..
ان کی وفات کے بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ھوا جس کا نام ” شیبہ ” رکھا گیا مگر چونکہ شیبہ کو ان کے چچا مطلب بن عبد مناف نے پالا پوسا تو شیبہ کو عبدالمطلب (مطلب کا غلام) کہا جانے لگا اور پھر انہیں تاریخ نے ھمیشہ اسی نام سے یاد رکھا..
حضرت عبدالمطلب بے حد حسین جمیل , وجیہہ اور شاندار شخصیت کے مالک تھے.. اللہ نے انہیں بےحد عزت سے نوازا اور وہ قریش مکہ کے اھم ترین سردار بنے..
ایک مدت تک ان کی اولاد میں ایک ھی بیٹا تھا جن کا نام حارث تھا.. حضرت عبدالمطلب کو بہت خواھش تھی کہ وہ کثیر اولاد والے ھوں چنانچہ انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ ان کو دس بیٹے عطا کرے گا اور وہ سب نوجوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے..
اللہ نے ان کی دعا اور منت کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دس یا بارہ بیٹے پیدا ھوئے جن میں سے ایک جناب حضرت عبداللہ تھے..
آپ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹ بیٹے تھے اور نہ صرف اپنے والد کے بلکہ پورے خاندان کے بہت چہیتے تھے.. حضرت عبدالمطلب کو ان سے بہت محبت تھی..
دس بیٹوں کی پیدائش کے بعد جب تمام کے تمام نوجوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی منت یاد آئی.. چنانچہ وہ اپنے سب بیٹوں کو لیکر حرم کعبہ میں پہنچ گئے.. جب عربوں کے مخصوص طریقے سے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا..
حضرت عبدالمطلب یہ دیکھ کر بہت پریشان ھوۓ کیونکہ شدت محبت کی وجہ سے ان کا دل نہ چاھتا تھا کہ حضرت عبداللہ کو قربان کردیں مگر چونکہ وہ منت مان چکے تھے تو اس کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنا چاھتے تھے.. چنانچہ حضرت عبداللہ کو لیکر قربان گاہ کی طرف بڑھے..
یہ دیکھ کر خاندان بنو ھاشم کے افراد جن کو حضرت عبداللہ سے بہت لگاؤ تھا ‘ بہت پریشان ھوۓ.. وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آۓ اور انہیں اس سلسلے میں یثرب (مدینہ) کی ایک کاھنہ عورت سے مشورہ کرنے کو کہا.. چنانچہ جب اس کاھنہ عورت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اس کا حل یہ نکالا کہ حضرت عبداللہ کی جگہ خون بہا ادا کیا جاۓ.. عربوں کے دیت (خون بہا) میں دس اونٹ دیے جاتے ھیں تو حضرت عبداللہ کے ساتھ دس دس اونٹوں کی قرعہ اندازی کی جاۓ اور یہ قرعہ اندازی تب تک جاری رکھی جاۓ جب تک قربانی کا قرعہ اونٹوں کے نام نہیں نکلتا..
چنانچہ ایسے ھی کیا گیا اور بالآخر دسویں بار قرعہ حضرت عبداللہ کے بجاۓ اونٹوں پر نکلا.. اس طرح ان کی جگہ سو اونٹوں کو قربان کیا گیا..
حضرت عبداللہ کی شادی بنو زھرہ کے سردار وھب بن عبدمناف کی بیٹی جناب حضرت آمنہ سے ھوئی جن کے بطن سے تاجدار دوجہان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ ھوئی..
اس سے پہلے کہ ھم کا باقائدہ آغاز کریں ضروری ھے کہ پیج میمبرز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت قریش مکہ کے مذھبی , سیاسی , معاشرتی , معاشی اور تمدنی حالات سے روشناس کرایا جاۓ.. نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ سے صرف پچاس دن پہلے ظہور پذیر ھونے والے واقعہ “عام الفیل” سے بھی آگاہ کیا جاۓ جب حبشی نژاد “ابرھہ” خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ھوا
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ھاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا..؟
کیا اس نے ان کی تدبیر کو نامراد نہیں بنا دیا..؟
اللہ نے ان پر پرندوں (ابابیل) کے جھنڈ بھیجے جو ان پر (کھنگر مٹی کی) کنکریاں پھینکتے تھے..
اس طرح اللہ نے ان کو کھاۓ ھوۓ بھوسے کی طرح کردیا..
سورہ الفیل.. آیت 1 تا 5..
واقعہ اصحاب الفیل حضرت محمد مصطفی’ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارکہ والے سال یعنی 571 عیسوی میں پیش آیا جب یمن کا حبشی نژاد عیسائی حکمران “ابرھہ بن اشرم” 60 ھزار فوج اور 13 ھاتھی لیکر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ھوا..
ابرھہ بن اشرم آغاز میں اس عیسائی فوج کا ایک سردار تھا جو شاہ حبشہ نے یمن کے حمیری نسل کے یہودی فرماں روا “یوسف ذونواس” کے عیسائیوں پر ظلم و ستم کا بدلہ لینے کو بھیجی جس نے 525 عیسوی تک اس پورے علاقے پر حبشی حکومت کی بنیاد رکھ دی.. ابرھہ بن اشرم رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کرتے ھوۓ بالآخر یمن کا خود مختار بادشاہ بن بیٹھا لیکن کمال چالاکی سے اس نے براۓ نام شاہ حبشہ کی بالادستی بھی تسلیم کیے رکھی اور اپنے آپ کو نائب شاہ حبشہ کہلواتا رھا..
ابرھہ ایک کٹر متعصب عیسائی تھا.. اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد اس نے عربوں میں عیسائیت پھیلانے کی سوچی جبکہ اس کا دوسرا ارادہ عربوں کی تجارت پر قبضہ جمانا تھا..
اس مقصد کے اس نے یمن کے دارالحکومت “صنعاء” میں ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا جسے عرب مؤرخین “القلیس” اور یونانی “ایکلیسیا” کہتے ھیں.. اس کلیسا کی تعمیر سے اس کے دو مقاصد تھے.. ایک تو عیسائیت کی تبلیغ کرکے عربوں کے حج کا رخ کعبہ سے اپنے کلیسا کی طرف موڑنا تھا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ھوجاتا تو اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ عربوں کی ساری تجارت جو ابھی تک خانہ کعبہ کی وجہ سے عربوں کے پاس تھی , وہ یمن کے حبشی عیسائیوں کے ھاتھ آ جاتی..
ابرھہ نے پہلے شاہ جبشہ کو اپنے اس ارادے کی اطلاع دی اور پھر یمن میں علی الاعلان منادی کرادی کہ ” میں عربوں کا حج کعبہ سے اکلیسیا کی طرف موڑے بغیر نہ رھوں گا..”
اس کے اس اعلان پر غضب ناک ھو کر ایک عرب (حجازی) نے کسی نہ کسی طرح ابرھہ کے گرجا میں گھس کر رفع حاجت کرڈالی.. اپنے کلیسا کی اس توھین پر ابرھہ نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کعبہ کو گرا نہ دوں..
اس کے بعد سنہ 570 عیسوی کے آخر میں وہ 60 ھزار فوج اور 13 جسیم ھاتھی لیکر یمن سے مکہ پر حملہ آور ھونے کے ارادے سے نکلا.. راستے میں دو عرب سرداروں نے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر شکست کھائی اور ابرھہ کسی طوفان کی طرح مکہ کے مضافاتی مقام “المغمس” میں پہنچ گیا..
یہاں ابرھہ کے لشکر نے پڑاؤ ڈالا جبکہ چند دستوں نے اس کے حکم پر مکہ کے قریب میں لوٹ مار کی اور اھل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی بھی لوٹ لیے گئے جن میں مکہ کے سردار اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب بن ھاشم کے دو سو اونٹ بھی تھے.. اس کے بعد ابرھہ نے ایک ایلچی مکہ کے سردار حضرت عبدالمطلب کے پاس بھیجا اور اس کے ذریعے اھل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ھوں بلکہ اس گھر (کعبہ) کو گرانے آیا ھوں.. اگر تم نہ لڑو تو میں تمھاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا..
حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا.. “ھم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ھے.. کعبہ اللہ کا گھر ھے وہ چاھے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا..”
ایلچی نے کہا.. “آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں..” وہ اس پر راضی ھوگئے..
حضرت عبدالمطلب بہت خوبصورت اور شاندار شخصیت کے مالک تھے.. ابرھہ ان کی مردانہ وجاھت سے اتنا متاثر ھوا کہ اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا.. پھر آپ سے پوچھا.. “آپ کیا چاھتے ھیں..؟”
انہوں نے کہا.. “میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ھیں میں اپنے ان اونٹوں کی واپسی چاھتا ھوں..”
ابرھہ ان کی بات سن کر سخت متعجب ھوا اور کہا.. “آپ مجھ سے اپنے دوسو اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ تو کررھے ھیں مگر اس بیت اللہ کا ذکر نہیں کرتے جو آپ کے اور آپ کے آباؤ اجداد کے دین کی بنیاد ھے.. میں اسے گرانے آیا ھوں مگر آپ کو اس کی کوئی فکر ھی نھیں..”
یہ سن کر حضرت عبدالمطلب نے کہا.. “ان اونٹوں کا مالک میں ھوں اس لیے آپ سے ان کی واپسی کی درخواست کررھا ھوں.. رھا یہ گھر تو اس گھر کا مالک اللہ ھے وہ اس کی حفاظت خود کرے گا..”
ابرھہ نے متکبرانہ انداز میں کہا.. “کعبہ کو اب آپ کا اللہ بھی مجھ سے نہیں بچا سکے گا..”
حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا.. “یہ معاملہ آپ جانیں اور اللہ.. لیکن یہ اس کا گھر ھے اور آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ھونے دیا.. ” یہ کہ کر وہ ابرھہ کے پاس سے اٹھ گئے اور ابرھہ سے واپس لیے گئے اونٹ لیکر مکہ آگئے..
جاری ہے

قسط نمبر 2 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

( سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. )
قسط 2..

پچھلی قسط میں خانوادہ ابراھیم علیہ السلام کی ھجرت اور پھر ننھے اسمائیل علیہ السلام کے مبارک قدموں کے نیچے سے زم زم کے چشمے کے پھوٹ پڑنے کا ذکر کیا گیا.. یہ چشمہ دراصل مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں زندگی کی نوید تھا.. پہلے قبیلہ جرھم جو پانی کی تلاش میں عرب کے صحراؤں میں پھر رھا تھا زم زم کے چشمہ کے پاس قیام پذیر ھوا اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک اور قبیلہ بنی قطورا بھی حضرت ھاجرہ کی اجازت سے وھاں آباد ھوگیا..
اور یوں مکہ جس کا قدیم اور اصل نام بکہ تھا (سورہ آل عمران).. ایک باقائدہ آبادی کا روپ اختیار کرگیا..
اگلے 15 ‘ 20 سال میں چند اھم واقعات ظہور پذیر ھوۓ.. ان میں سے ایک تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کا وہ خواب ھے جس میں انہیں حضرت اسمائیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ھوا.. یقیننا” یہ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسمائیل علیہ السلام کی ایک عظیم آزمائش تھی..
حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ کا حکم پاکر مکہ تشریف لاۓ اور اپنے بیٹے حضرت اسمائیل علیہ السلام سے اپنے خواب کا ذکر کیا.. سعادت مند اور فرماں بردار بیٹے نے جو اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھے یہ کہہ کر اپنی رضامندی ظاھر کردی کہ اگر یہ اللہ کا حکم ھے تو پھر مجھے قبول ھے آپ حکم ربی کو پورا کریں.. اور پھر عین اس وقت جب کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام حضرت اسمائیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانے والے تھے , اللہ نے ان کو آزمائش میں کامیاب پاکر حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ایک مینڈھے سمیت زمین پر بھیجا اور پھر حضرت اسمائیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کی قربانی کی گئی..
اللہ کو حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسمائیل علیہ السلام کا یہ فعل اتنا پسند آیا کہ پھر تا قیامت اس قربانی کی یاد میں حج پر قربانی فرض کردی اور تب سے ھر سال یہ سنت ابراھیمی جاری ھے اور عید الاضحی’ کے دن لاکھوں مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کرکے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ھیں.. حضرت اسمائیل علیہ السلام مکہ میں ھی فوت ھوۓ اور ایک روایت کے مطابق وہ اور ان کی والدہ حضرت ھاجرہ بیت اللہ کے ساتھ حجر (حطیم) میں مدفون ھیں.. واللہ اعلم..
دوسرا اھم واقعہ خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر تھی.. خانہ کعبہ حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور یہ زمین پر اللہ کا پہلا گھر تھا مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کی عمارت بھی سطح زمین سے معدوم ھوگئی اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کے زمانہ میں اس کا کوئی نشان تک ظاھر نہ تھا.. لیکن پھر اللہ کے حکم پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خانہ کعبہ کی بنیادوں کی طرف نشاندھی کی اور آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسمائیل علیہ السلام کے ساتھ ملکر خانہ کعبہ کی پرانی بنیادوں پر تعمیر کی.. اللہ کا یہ گھر ایسا سادہ تعمیر ھوا کہ اس کی نہ چھت تھی , نہ کوئی کواڑ اور نہ ھی کوئی چوکھٹ یا دروازہ.. کعبہ کو “کعبہ” اس کی ساخت کے مکعب نما ھونے کی بنا پر کہا جاتا ھے.. عربی میں چھ یکساں پہلوؤں والی چیز معکب کہلاتی ھے.. چونکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تعمیر مکعب حالت میں تھی تو اسے کعبہ کہا جانے لگا.. یاد رھے کہ موجودہ خانہ کعبہ چار کونوں والا ھے جسے قریش مکہ نے اس وقت تعمیر کیا جب ایک سیلاب میں خانہ کعبہ کی عمارت منہدم ھوگئی تھی.. اس کا ذکر آگے آۓ گا..
تیسرا اھم واقعہ قبائل جرھم اور بنی قطورا کا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تبلیغ پر دین حنیف یعنی دین ابراھیمی قبول کرلینا تھا.. خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تولیت یعنی سارا مذھبی انتظام قبیلہ جرھم کے حوالے کردیا.. بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی سے حضرت اسمائیل علیہ السلام کی شادی ھوئی..
جب کچھ پشتوں بعد نسل اسمائیل علیہ سلام پھلی پھولی تو پھر خانہ کعبہ کا سارا انتظام خود آل اسمائیل نے سنبھال لیا.. کچھ عرصہ گزرا تو ایک اور قبیلہ “ایاد” مکہ پر حملہ آور ھوا اور شھر پر زبردستی قبضہ کرلیا.. اور اس دوران بنی اسمائیل کے بہت سے قبائل کو مکہ سے نکلنا بھی پڑا.. تاھم بعد میں یمن سے آنے والے ایک اور قبیلہ بنو خزاعہ نے مکہ کو بنی ایاد سے آزاد کرالیا..
حضرت اسمائیل علیہ السلام کی نسل سے “قصی بن کلاب” وہ نامور بزرگ گزرے ھیں (جن کی شادی بنو خزاعہ کے رئیس کی بیٹی سے ھوئی تھی) جنہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت واپس لینے کے لیے جدو جہد شروع کی اور بالآخر بنو خزاعہ کی بہت مخالفت کے باوجود اس مقصد میں کامیاب ھوۓ.. انہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت کا انتظام پھر سے ملنے پر قدیم عمارت گرا دی اور خانہ کعبہ کو نئے سرے سے تعمیر کرایا اور پہلی بار کجھور کے پتوں کی چھت بھی ڈالی..
درحقیقت قصی بن کلاب ھی وہ بزرگ تھے جنہوں نے مکہ کو ایک خانہ بدوشانہ شھر سے بدل کر ایک منظم ریاست کی شکل دی.. انہیں بجا طور پر مکہ کا مطلق العنان بادشاہ کہا جاسکتا ھے جن کا ھر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا.. تاھم انہوں نے دیگر قبائل کے سرکردہ افراد کو اپنی مشاورت میں شامل رکھا جبکہ مکہ کا انتظام و انتصرام چلانے کے لیے مختلف انتظامی امور کو چھ شعبوں میں تقسیم کیا اور اپنی اولاد میں ان عہدوں کی تقسیم کی.. یہ نظام بڑی کامیابی سے اگلے 150 سال سے زائد عرصہ تک چلا اور پھر بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب مکہ فتح ھوا تو اسے اسلامی اصولوں اور بنیادوں پر تبدیل کردیا گیا..
ایک روایت کے مطابق انہی کا لقب قریش تھا جس کی وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریش کہا جانے لگا جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قصی بن کلاب سے چھ پشت پہلے بنی اسمائیل میں “فہر بن مالک” ایک بزرگ تھے جن کا لقب قریش تھا..
خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ قصی بن کلاب اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی عزت و سیادت حاصل ھوگئی تھی اور پھر اس قریش (آل قصی بن کلاب) نے خود کو اس کے قابل ثابت بھی کیا..

قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا جملہ انتظام و انتصرام کا بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقائدہ ایک ریاست کا روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کیے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم کیا جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا اور یہی نظام بعث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بڑی کامیابی سے چلایا گیا..

اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد حضرت ھاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام) , عمارۃ البیت (حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور افاضہ (حج کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئیں جو ان کے بعد بنو ھاشم کے خاندان میں نسل در نسل چلتی رھیں..

حضرت ھاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے.. نہائت ھی جلیل القدر بزرگ تھے.. انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے جبکہ مختلف قبائل عرب سے بھی معاھدات کرلیے.. ان کی اس پالیسی کی وجہ سے قریش کے باقی قبائل میں بنو ھاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ھوگیا تھا..

ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور علم برداری کا شعبہ خاندان بنو امیہ کے حصے میں آیا.. لشکر قریش کا سپہ سالار بنو امیہ سے ھی ھوتا تھا چنانچہ “حرب” جو حضرت ھاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے تھے’ ان کو اور انکے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر کی قیادت سونپی جاتی تھی..

جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو تیم بن مرہ کو اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت , دیت و جرمانے کی وصولی اور تعین کی ذمہ داری سونپی گئی..

اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی کے حصے میں آیا.. ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ مذاکرات , معاھدات اور سفارت کاری تھا..

بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا.. ان کے حصے میں “قبہ و اعنہ” کا شعبہ آیا.. ان کا کام قومی ضروریات کے لیے مال و اسباب اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور گھوڑوں کی فراھمی تھا.. قریش کے گھڑسوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ھوتا تھا.. اپنا وقت آنے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی کمان نہائت خوش اسلوبی سے سنبھالی..

اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری مختلف قبائل قریش کے حوالے کردی گئی..
جاری ہے

قسط نمبر 1 سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

آج سے سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک سلسلہ شروع کیا جا رھا ھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کے تذکرہ سے پہلے بہت ضروری ھے کہ آپ کو سرزمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات سے روشناس کرایا جاۓ ۔
تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے..
ملک عرب ایک جزیرہ نما ھے جس کے جنوب میں بحیرہ عرب , مشرق میں خلیج فارس و بحیرہ عمان , مغرب میں بحیرہ قلزم ھے.. تین اطراف سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ھے.. مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد بے آب و گیاہ وادیوں پر مشتمل ھے جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے لیے بھی مشھور ھیں.. طبعی لحاظ سے اس ملک کے پانچ حصے ھیں..
یمن :
یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رھا ھے جس کو پرامن ھونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا.. آب و ھوا معتدل ھے اور اسکے پہاڑوں کے درمیان وسیع و شاداب وادیاں ھیں جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ھوتے ھیں.. قوم “سبا” کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی کے لیے بہت سے بند (ڈیم) بناۓ جن میں “مارب” نام کا مشھور بند بھی تھا.. اس قوم کی نافرمانی کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی وجہ سے قوم سبا عرب کے طول و عرض میں منتشر ھوگئی..
حجاز :
یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقغ ھے.. حجاز ملک عرب کا وہ حصہ ھے جسے اللہ نے نور ھدائت کی شمع فروزاں کرنے کے لیے منتخب کیا.. اس خطہ کا مرکزی شھر مکہ مکرمہ ھے جو بے آب و گیاہ وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ھے.. حجاز کا دوسرا اھم شھر یثرب ھے جو بعد میں مدینۃ النبی کہلایا جبکہ مکہ کے مشرق میں طائف کا شھر ھے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ عرب کے ریگستان میں جنت ارضی کی مثل ھے.. حجاز میں بدر , احد , بیر معونہ , حدیبیہ اور خیبر کی وادیاں بھی قابل ذکر ھیں..
نجد :
ملک عرب کا ایک اھم حصہ نجد ھے جو حجاز کے مشرق میں ھے اور جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت “الریاض” واقع ھے..
حضرموت :
یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ھے.. بظاھر ویران علاقہ ھے.. پرانے زمانے میں یہاں “ظفار” اور “شیبان” نامی دو شھر تھے..
مشرقی ساحلی علاقے (عرب امارات) :
ان میں عمان ‘ الاحساء اور بحرین کے علاقے شامل ھیں.. یہاں سے پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے جبکہ آج کل یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ھے..
وادی سیناء :
حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج ایلہ کے درمیان وادی سیناء کا علاقہ ھے جہاں قوم موسی’ علیہ السلام چالیس سال تک صحرانوردی کرتی رھی.. طور سیناء بھی یہیں واقع ھے جہاں حضرت موسی’ علیہ السلام کو تورات کی تختیاں دی گئیں..
نوٹ :
ایک بات ذھن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں آج کے سعودی عرب , یمن , بحرین , عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام , عراق اور مصر جیسے ممالک بعد میں فتح ھوۓ اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وھاں نقل مکانی کرکے آباد ھوئی اور نتیجتہ” یہ ملک بھی عربی رنگ میں ڈھل گئے لیکن اصل عرب علاقہ وھی ھے جو موجودہ سعودیہ , بحرین , عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ھے اور اس جزیرہ نما کی شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ھے..
عرب کو “عرب” کا نام کیوں دیا گیا اس کے متعلق دو آراء ھیں.. ایک راۓ کے مطابق عرب کے لفظی معنی “فصاحت اور زبان آوری” کے ھیں.. عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا ھم پایہ اور ھم پلہ نہیں سمجھتے تھے اس لیے اپنے آپ کو عرب (فصیح البیان) اور باقی دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے..
دوسری راۓ کے مطابق لفظ عرب “عربہ” سے نکلا ھے جس کے معنی صحرا اور ریگستان کے ھیں.. چونکہ اس ملک کا بیشتر حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ھے اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا..
مؤرخین عرب قوم کو تین گروھوں میں تقسیم کرتے ھیں..
عرب بائدہ..
یہ قدیم عرب لوگ ھیں جو اس ملک میں آباد تھے.. ان میں قوم عاد و ثمود کا نام آپ میں سے اکثر نے سن رکھا ھوگا.. ان کے علاوہ عمالقہ ‘ طسم ‘ جدیس ‘ امیم وغیرہ بھی اھم ھیں.. ان لوگوں نے عراق سے لیکر شام اور مصر تک سلطنتیں قائم کرلی تھیں.. بابل اور اشور کی سلطنتوں اور قدیم تمدن کے بانی یہی لوگ تھے..
یہ قومیں کیسے صفحہ ھستی سے مٹ گئیں اس کے متعلق تاریخ ھمیں تفصیل سے کچھ بتانے سے قاصر ھے.. لیکن اب بابل ‘ مصر ‘ یمن اور عراق کے آثار قدیمہ سے انکشافات ھورھے ھیں اور کتابیں لکھی جارھی ھیں.. جبکہ قوم عاد و ثمود کے حوالے سے قرآن مجید ھمیں بتاتا ھے کہ یہ قومیں اللہ کی نافرمانی اور سرکشی میں جب حد سے بڑھ گئیں تو انکو عذاب الہی نے گھیر لیا اور یہ نیست و نابود ھوگئیں..
عرب عاربہ..
عرب عاربہ کو بنو قحطان بھی کہا جاتا ھے.. یہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کی اولاد سے ھیں اور یہ لوگ قدیم عرب (عاد ثمود وغیرہ) کی تباھی اور جزیرہ نما عرب سے مٹ جانے کے بعد یہاں آباد ھوۓ..
قحطان حضرت نوح علیہ السلام کا پوتا تھا جس کے نام پر یہ لوگ بنو قحطان کہلاۓ.. پہلے پہل یہ لوگ یمن کے علاقے میں قیام پذیر ھوۓ.. مشھور ملکہ سبا یعنی حضرت بلقیس کا تعلق بھی بنو قحطان کی ایک شاخ سے تھا.. پھر ایک دور آیا کہ بنو قحطان کو سرزمین عرب کے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی بھی کرنا پڑی.. اسکی ایک وجہ تووہ مشھور سیلاب ھے جو “مارب بند ” ٹوٹ جانے کی وجہ سے آیا جسکے نتیجے میں ان لوگوں کو جان بچانے کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑا.. اس سیلاب کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ھے..
اور دوسری وجہ یہ کہ جب انکی آبادی پھیلی تو مجبورا” ان کے مختلف قبائل کو یمن سے نکل کر اپنے لیے نئے علاقے ڈھونڈنا پڑے جس کے نتیجے میں یہ لوگ جزیرہ نما عرب کے طول و عرض میں پھیل گئے.. جبکہ کچھ قبائل شام و ایران اور عرب کے سرحدی علاقوں کی طرف بھی نکل گئے اور وھاں اپنی آبادیاں قائم کیں.. جبکہ ایک قبیلہ بنو جرھم مکہ کی طرف جا نکلا اور زم زم کے چشمے کی وجہ سے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت ھاجرہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے وھاں آباد ھوگیا..
بنو قحطان کا ھی ایک قبیلہ آزد کا سردار ثعلبہ اپنے قبیلہ کے ساتھ یثرب (مدینہ ) کی طرف آیا اور یہاں جو چند خاندان بنی اسرائیل کے رھتے تھے انہیں مغلوب کرلیا.. قلعے بناۓ اور نخلستان لگاۓ.. اسی کی اولاد سے اوس اور خزرج مدینہ کے دو مشھور قبیلے تھے جنکا تاریخ اسلام میں بہت اونچا مقام ھے..
عرب مستعربہ..
سرزمین عرب پر سب سے آخر میں آباد ھونے والے بنو اسمائیل تھے.. انہی کو عرب مستعربہ بھی کہا جاتا ھے.. حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنی زوجہ حضرت ھاجرہ اور شیرخوار بیٹے حضرت اسمائیل علیہ السلام کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا.. اور خود واپس چلے گئے..
یاد رھے کہ اس وقت نہ مکہ کی آبادی تھی اور نہ ھی خانہ کعبہ کا وجود.. خانہ کعبہ ویسے تو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت تعمیر ھوا مگر خانوادہ ابراھیم علیہ السلام کی ھجرت کے وقت وہ تعمیر معدوم ھوچکی تھی اور پھر بعد میں جب حضرت اسمائیل علیہ السلام کی عمر 15 سال کی تھی تو حضرت ابراھیم علیہ السلام مکہ تشریف لاۓ تھے اور ان دونوں باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم پر اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی راھنمائی اور نگرانی میں خانہ کعبہ کو انہی بنیادوں پر ازسر نو تعمیر کیا جن پر کبھی حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا..
جب شدت گرمی اور پیاس سے حضرت اسمائیل علیہ السلام کی حالت خراب ھونا شروع ھوئی تو حضرت ھاجرہ.. ایک عظیم ماں کی وہ بے قرار دوڑ شروع ھوئی جو آج بھی حج کا ایک لازم حصہ ھے..
آپ پانی کی تلاش میں کبھی صفا پہاڑی پر چڑھ کر دور دور تک دیکھتیں کہ شائد کہیں پانی نظر آۓ اور کبھی صفا کی مخالف سمت میں مروہ پہاڑی پر چڑھ کر دیکھتیں مگر وھاں پانی ھوتا تو نظر آتا.. اس دوران جب حضرت اسمائیل علیہ السلام کے رونے کی آواز ماں کے کانوں میں پڑتی تو بے قرار ھوکر ان کے پاس دوڑی دوڑی جاتیں اور جب انکو پیاس سے جاں بلب اور روتا بلکتا دیکھتیں تو پھر دیوانہ وار پانی کی تلاش میں جاتیں..
اسی اثناء میں کیا دیکھتی ھیں کہ جہاں ننھے اسمائیل علیہ السلام اپنی ایڑھیاں رگڑ رھے تھے وھاں سے پانی کسی چشمہ کی صورت ابل رھا ھے.. بھاگ کر بیٹے کے پاس پہنچیں.. اللہ کا شکر ادا کرتے ھوۓ بیٹے کو پانی پلایا.. خود بھی پیا اور پھر اس چشمہ کے ارد گرد تالاب کی صورت میں مٹی کی منڈیر بنادی لیکن جب پانی مسلسل بڑھتے بڑھتے تالاب کے کناروں سے باھر نکلنے لگا تو بے اختیا ر آپ کے مونھ سے نکلا..
” زم زم ” (ٹھہر جا ٹھہر جا)
اور انکے یہ فرماتے ھی پانی یکدم ٹھہر گیا..
یہاں آپ سے زم زم کے کنویں کے متعلق ایک معجزاتی بات شیئر کرنا چاھتا ھوں.. موجودہ دور میں اس کنوں میں بڑی بڑی موٹریں لگا کر پانی نکالا جاتا ھے.. کنویں میں پانی کا لیول خانہ کعبہ کی بنیادوں سے ھمیشہ 6 فٹ نیچے رھتا ھے.. کنویں سے 24 گھنٹے لگاتار پانی نکالا جاتا ھے جسکی مقدار ملیئنز آف ملیئنز گیلنز میں ھوتی ھے..
اب دو بہت ھی عجیب باتیں ظہور پذیر ھوتی ھیں.. ایک تو یہ کہ 24 گھنٹے میں مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے کنویں کا جو لیول کم ھوتا ھے وہ بہت تیزی سے محض گیارہ منٹوں میں اپنی اصل جگہ پر واپس آجاتا ھے.. اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ھے کہ اتنی تیزی سے اوپر چڑھنے والا پانی ھمیشہ ھی اپنے لیول یعنی خانہ کعبہ کی بنیادوں سے 6 فٹ نیچے پہنچ کر خود بخود رک جاتا ھے..
یہ اوپر کیوں نہیں چڑھتا..؟
اور اگر یہ پانی خود بخود نہ رک جاۓ تو تب غور کریں کہ اگر 24 گھنٹے نکالا جانے والا پانی صرف 11 منٹوں میں پورا ھوجاتا ھے تو اگر یہ پانی نہ رکے اور اوپر چڑھ کر باھر بہنا شروع کردے تو تب کیا صورت پیدا ھوگی..؟
یقینا” یہ حضرت ھاجرہ کے مبارک فرمان یعنی “زم زم.. ٹھہرجا ٹھہرجا” کی برکت ھے کہ یہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور جتنا بھی اس سے پانی نکال لیا جاۓ یہ بس اپنے اسی لیول تک آ کر خود بخود رک جاتا ھے جہاں کبھی اسے حضرت ھاجرہ نے روکا تھا.. اب اصل موضوع کی طرف پلٹتے ھیں..
اوپر بنو قحطان کے ایک قبیلہ جرھم کا ذکر کیا گیا.. سرزمین عرب کیونکہ زیادہ تر صحرا اور لق و دق پہاڑی علاقہ پر مشتمل ھے اور پانی بہت نایاب ھے تو کسی جگہ آبادی کے لیے بہت ضروری ھے کہ وھاں پانی میسر ھو.. قبیلہ جرھم جب اپنے علاقہ یمن سے نئے وطن کی تلاش میں نکلا تو دوران سفر جب مکہ کی وادی میں پہنچا تو وھاں انکو زم زم کے چشمہ کی وجہ سے ٹھہرنا مناسب لگا.. کیونکہ چشمہ کی مالک حضرت ھاجرہ تھیں تو انہوں نے بی بی ھاجرہ کی اجازت سے چشمہ کے ساتھ میں ڈیرے ڈال دیئے اور آباد ھوگئے.. یوں حضرت ھاجرہ اور حضرت اسمائیل علیہ السلام کو ایک مضبوط عربی قبیلہ کا ساتھ میسر آیا.. بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی کے ساتھ حضرت اسمائیل علیہ السلام کی شادی ھوئی جبکہ خانہ کعبہ بھی ازسر نو تعمیر ھوا..
یوں مکہ بے آب وگیاہ وادی سے ایک آباد شھر کا روپ اختیار کر گیا..
جاری ہے

بیس رکعتیں تراویح کی شرعی حیثیت

ایک انتہائی اہم مسئلہ جس کو علماء کی رہنمائی کے بعد القرآن المجید کی ٹیم شائع کرنے جا رہی ہے انشااللہ آپ کے بہت سے مسائل تراویح کے بارے میں حل ہو جائیں گئے۔اس آرٹیکل کا مکمل مطالعہ بھی کریں اور شیر ضرور کریں۔

وَأَمَّا قَدْرُهَا فَعِشْرُونَ رَكْعَةً فِي عَشْرِ تَسْلِيمَاتٍ، فِي خَمْسِ تَرْوِيحَاتٍ كُلُّ تَسْلِيمَتَيْنِ تَرْوِيحَةٌ وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِوَقَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلٍ: سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ رَكْعَةً، وَفِي قَوْلٍ سِتَّةٌ وَعِشْرُونَ رَكْعَةً، وَالصَّحِيحُ قَوْلُ الْعَامَّةِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَصَلَّى بِهِمْ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَلَمْ يُنْكِرْ أَحَدٌ عَلَيْهِ فَيَكُونُ إجْمَاعًا مِنْهُمْ عَلَى ذَلِكَ.(بدائع الصنائع)

تراویح مرد و عورت سب کے ليے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔ ”الدرالمختار”، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، ج۲، ص۵۹۶، وغیرہ .اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے مداومت فرمائی اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کہ ”میری سنت اور سنت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازم سمجھو۔” ”جامع الترمذي”، أبواب العلم، باب ماجاء في الأخذ بالسنۃ… إلخ، الحدیث: ۲۶۸۵، ج۴، ص۳۰۸.
اور خود حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بھی تراویح پڑھی اور اسے بہت پسند فرمایا۔
صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، ارشاد فرماتے ہیں: ”جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ سے اور ثواب طلب کرنے کے ليے، اس کے اگلے سب گناہ بخش ديے جائیں گے ( ”صحيح مسلم”، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الترغيب في قیام رمضان وہو التراويح، الحدیث: ۷۵۹، ص۳۸۲. ) یعنی صغائر۔” پھر اس اندیشہ سے کہ امت پر فرض نہ ہو جائے ترک فرمائی پھر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان میں ایک رات مسجد کو تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہا ہے، کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں، فرمایا: میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہو، سب کو ایک امام ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اکٹھا کر دیا پھر دوسرے دن تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں فرمایا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ یہ اچھی بدعت ہے۔ (‘صحيح البخاري”، کتاب صلاۃ التروایح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث : ۲۰۱۰، ج۱، ص۶۵۸.
و ”الموطأ” لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قيام رمضان، رقم ۲۵۵، ج۱، ص۱۲۰. ) رواہ اصحاب السنن۔
جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں ( ”الدرالمختار” و ”ردالمحتار”، کتاب الصلاۃ، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاۃ التراويح، ج۲، ص۵۹۹. ) اور یہی احادیث سے ثابت، بیہقی نے بسند صحیح سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ( ”معرفۃ السنن و الآثار” للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب قيام رمضان، رقم ۱۳۶۵، ج۲، ص۳۰۵. ) اور عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں بھی یوہیں تھا۔ ( ”فتح باب العنایۃ شرح النقایۃ”، کتاب الصلاۃ، فصل في صلاۃ التراويح، ج۱، ص۳۴۲. ) اور موطا ميں یزید بن رومان سے روایت ہے، کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان ميں تیئس ۲۳ رکعتیں پڑھتے۔ (”الموطأ” لإمام مالک، کتاب الصلاۃ في رمضان، باب ماجاء في قيام رمضان، رقم ۲۵۷، ج۱، ص۱۲۰. ) بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں۔ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا: کہ رمضان میں لوگوں کو بیس ۲۰ رکعتیں پڑھائے۔ ( ”السنن الکبری”، کتاب الصلاۃ، باب ما روی في عدد رکعات القيام في شھر رمضان، الحدیث: ۴۶۲۱، ج۲، ص۶۹۹. ) نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس ۲۰ رکعتیں ہیں، لہٰذا مناسب کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و مکمل برابر ہوں۔
1……….اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں (نفل) نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلی رات نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہوگئے پھر تیسری یا چوتھی رات بھی اکٹھے ہوئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا : میں نے دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے تمہارے پاس (نماز پڑھانے کے لئے) آنے سے صرف اس اندیشہ نے روکا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے گی اور یہ رمضان المبارک کا واقعہ ہے۔‘‘
🙁 أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التهجد، باب : تحريض النبي صلي الله عليه وآله وسلم علي صلاة الليل والنوافل من غير إيجاب،)
2…..’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے تو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ) رمضان المبارک میں لوگ مسجد کے ایک گوشہ میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کون ہیں؟ عرض کیا گیا : یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن پاک یاد نہیں اور حضرت ابی بن کعب نماز پڑھتے ہیں اور یہ لوگ ان کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہوں نے درست کیا اور کتنا ہی اچھا عمل ہے جو انہوں نے کیا۔‘‘
أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : في قيام شهر رمضان،

3…..’’حضرت عبدالرحمن بن عبد القاری روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا تو لوگ متفرق تھے کوئی تنہا نماز پڑھ رہا تھا اور کسی کی اقتداء میں ایک گروہ نماز پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خیال میں انہیں ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو اچھا ہو گا پس انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے سب کو جمع کر دیا، پھر میں ایک اور رات ان کے ساتھ نکلا اور لوگ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا : یہ کتنی اچھی بدعت ہے، اور جو لوگ اس نماز (تراویح) سے سو رہے ہیں وہ نماز ادا کرنے والوں سے زیادہ بہتر ہیں اور اس سے ان کی مراد وہ لوگ تھے (جو رات کو جلدی سو کر) رات کے پچھلے پہر میں نماز ادا کرتے تھے اور تراویح ادا کرنے والے لوگ رات کے پہلے پہر میں نماز ادا کرتے تھے۔‘‘
أخرجه البخاري في صحيح، کتاب : صلاة التراويح، باب : فضل من قام رمضان،
4……’’حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر فرمایا تو سب مہینوں پر اسے فضیلت دی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کرتا ہے تو وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘
’’اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں اور میں نے تمہارے لئے اس کے قیام (نمازِ تراویح) کو سنت قرار دیا ہے لہٰذا جو شخص ایمان اور حصول ثواب کی نیت کے ساتھ ماہ رمضان کے دنوں میں روزے رکھتا ہے اور راتوں میں قیام کرتا ہے وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘
أخرجه النسائي في السنن، کتاب : الصيام، باب : ذکر اختلاف يحيي بن أبي کثير والنضر بن شيبان فيه، ابن ماجه في السنن، کتاب : إقامة الصلاة والسنة فيها، باب : ماجاء في قيام شهر رمضان،
5…..’’حضرت یزید بن رومان نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ (بشمول وتر) 23 رکعت پڑھتے تھے۔
أخرجه مالک في الموطأ، کتاب : الصلاة في رمضان، باب : الترغيب في الصلاة في رمضان،
6….’’امام ابو عیسیٰ ترمذی رضی اللہ عنہ نے اپنی سنن میں فرمایا : اکثر اہلِ علم کا مذہب بیس رکعت تراویح ہے جو کہ حضرت علی، حضرت عمر رضی اﷲ عنہما اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر اصحاب سے مروی ہے اور یہی (کبار تابعین) سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک اور امام شافعی رحمہ اﷲ علیہم کا قول ہے اور امام شافعی نے فرمایا : میں نے اپنے شہر مکہ میں (اہلِ علم کو) بیس رکعت تراویح پڑھتے پایا۔‘‘
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الصوم عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في قيام شهر رمضان، 3 / 169، الرقم : 806.
7…..’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضي اﷲ عنہما سے مروی ہے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔‘‘
أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 164، الرقم : 7692، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 243، الرقم : 798، 5 / 324،
8….’’حضرت سائب بن یزید نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فجر کے قریب تراویح سے فارغ ہوتے تھے اور ہم (بشمول وتر) تئیس رکعات پڑھتے تھے۔‘‘
أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 4 / 261، الرقم : 7733،
9….’’حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ماہ رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور ان میں سو آیات والی سورتیں پڑہتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں شدتِ قیام کی وجہ سے وہ اپنی لاٹھیوں سے ٹیک لگاتے تھے۔‘‘
أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 2 / 496، الرقم : 4393
9…..’’ابو خصیب نے بیان کیا کہ ہمیں حضرت سوید بن غفلہ ماہ رمضان میں نماز تراویح پانچ ترویحوں (یعنی بیس رکعت میں) پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 2 / 446،
10….’’حضرت شُتیر بن شکل سے روایت ہے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 163، الرقم : 7680
11…..’’حضرت ابو عبدالرحمن سلمی سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه البيهقي في السنن الکبري، 2 / 496، الرقم

12…’’حضرت حسن (بصری) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی ابن بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں قیام رمضان کے لئے اکٹھا کیا تو وہ انہیں بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔‘‘
العسقلاني في تلخيص الحبير، 2 / 21، الرقم : 540 أخرجه الذهبي في سير أعلام النبلاء، 1 / 400،
….ابن تیمیۃ نے ’’اپنے فتاوی‘‘ (مجموعہ فتاویٰ) میں کہا کہ ثابت ہوا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے تو اکثر اہلِ علم نے اسے سنت مانا ہے۔ اس لئے کہ وہ مہاجرین اور انصار (تمام) صحابہ کرام کے درمیان (ان کی موجودگی میں) قیام کرتے (بیس رکعت پڑھاتے) اور ان صحابہ میں سے کبھی بھی کسی نے انہیں نہیں روکا۔
أخرجه ابن تيمية في مجموع فتاوي، 1 / 191،
…..’’مجموعہ الفتاوی النجدیہ میں ہے کہ شیخ عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب نے تعداد رکعات تراویح سے متعلق سوال کے جواب میں بیان کیا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز تراویح کے لئے جمع کیا تو وہ انہیں بیس رکعت پڑھاتے تھے۔‘‘
أخرجه إسماعيل بن محمد الأنصاري في تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين رکعة، 1 / 35.